آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ اوپنر عثمان خواجہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے پورے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کے دوران ریمیٹائڈ آرتھرائٹس نامی بیماری میں مبتلا رہے، تاہم انہوں نے اپنے کیریئر پر ممکنہ منفی اثرات کے خدشے کے باعث اس بیماری کو طویل عرصے تک خفیہ رکھا۔
عثمان خواجہ نے آسٹریلوی پروگرام ’آسٹریلین اسٹوری‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 2009 میں، صرف 22 سال کی عمر میں، اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس مرض کے باعث انہیں بائیں گھٹنے میں شدید درد کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوگئی تھی۔
شدید درد کے باعث چلنا بھی مشکل ہوگیا تھا
سابق کرکٹر کے مطابق بیماری کی شدت ایک موقع پر اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ان کے لیے چند قدم چلنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں اپنی زندگی کے حوالے سے بھی شدید خدشات لاحق ہوگئے تھے اور انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید وہ مر جائیں گے۔عثمان خواجہ نے کہا کہ بیماری کے باعث انہیں نہ صرف جسمانی تکلیف برداشت کرنا پڑی بلکہ اپنے کرکٹ کیریئر کے مستقبل کے حوالے سے بھی پریشانی کا سامنا رہا۔
قریبی ساتھیوں سے بھی بیماری چھپائے رکھی
عثمان خواجہ نے بتایا کہ انہیں خدشہ تھا کہ اگر ان کی بیماری کے بارے میں معلوم ہوگیا تو اس سے ان کے کرکٹ کیریئر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو بھی اس بارے میں نہیں بتایا۔ان کے مطابق ڈیوڈ وارنر اور مائیکل ہسی جیسے قریبی ساتھی بھی اس حقیقت سے لاعلم رہے کہ وہ ایک ایسی بیماری سے لڑ رہے ہیں جو ان کی جسمانی سرگرمیوں اور کھیلنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی تھی۔
ادویات اور انجیکشنز سے کرکٹ میں واپسی ممکن ہوئی
سابق آسٹریلوی اوپنر نے بتایا کہ باقاعدہ ادویات اور انجیکشنز کے ذریعے علاج کے بعد وہ تقریباً چھ ماہ میں دوبارہ کرکٹ کے میدان میں واپس آنے کے قابل ہوئے۔ان کے مطابق علاج کے بغیر معمول کی زندگی گزارنا بھی مشکل ہوجاتا تھا۔ بیماری کے باوجود انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کو جاری رکھا اور آسٹریلیا کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔ریمیٹائڈ آرتھرائٹس ایک دائمی خودکار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام جوڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں درد، سوجن اور اکڑن جیسی علامات پیدا ہوسکتی ہیں۔ مناسب علاج بیماری کی علامات کو قابو میں رکھنے اور روزمرہ زندگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
88 ٹیسٹ میچوں میں 6 ہزار سے زائد رنز
عثمان خواجہ نے جنوری 2026 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 88 میچ کھیلے اور 16 سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 6 ہزار 229 رنز بنائے۔ان کی جانب سے بیماری کے بارے میں یہ انکشاف ان کی زندگی اور کرکٹ کیریئر کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتا ہے جس سے ان کے بہت سے ساتھی اور شائقین طویل عرصے تک لاعلم رہے۔