سوڈان: آر ایس ایف کے 5 بجلی گھروں پر ڈرون حملہ، پیمانے پر بجلی بند

سوڈان: آر ایس ایف کے 5 بجلی گھروں پر ڈرون حملہ، پیمانے پر بجلی بند

سوڈان میں نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں پانچ بجلی گھر متاثر ہوگئے، جس کے بعد ملک کے مشرقی اور وسطی علاقوں کے بڑے حصے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔

سوڈانی حکام کے مطابق پیر کے روز ہونے والے حملے بیک وقت کیے گئے۔ ان حملوں میں ریاست الجزیرہ اور القضارف کے دو، دو جبکہ وائٹ نائل ریاست کا ایک بجلی گھر نشانہ بنا۔بجلی گھروں پر حملوں کے باعث متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بندش نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے، جبکہ گھریلو ضروریات کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں، آب پاشی اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں بھی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

بجلی کی بندش سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا
متاثرہ علاقوں کے شہریوں کے مطابق صبح سویرے سے بجلی بند ہے، جس کے باعث خاص طور پر ایسے مریضوں کے اہل خانہ پریشان ہیں جن کی ادویات کو مخصوص درجہ حرارت پر محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ایک شہری نے بتایا کہ اس کا بیٹا ذیابیطس کا مریض ہے اور انسولین استعمال کرتا ہے۔ انسولین کو محفوظ رکھنے کے لیے فریج کی ضرورت ہوتی ہے، تاہم بجلی کی غیر یقینی فراہمی کے باعث دوا خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش سے صحت کے مسائل میں مبتلا افراد کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خصوصاً ایسے خاندانوں کو جن کے لیے ادویات کو محفوظ رکھنے کے متبادل انتظامات کرنا آسان نہیں۔

دکانداروں کو خوراک خراب ہونے کا خدشہ
بجلی کی بندش سے کاروباری طبقہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دکانداروں کے مطابق فریزر اور ریفریجریٹر بند رہنے سے ان میں محفوظ خوراک اور دیگر اشیا خراب ہوسکتی ہیں، جس سے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس کے علاوہ آب پاشی کے نظام اور بجلی پر انحصار کرنے والی دیگر ضروری خدمات کی فراہمی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ حکام کی جانب سے متاثرہ بجلی گھروں کی بحالی اور بجلی کی فراہمی معمول پر آنے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سوڈان میں جنگ کے دوران ڈرون حملوں میں اضافہ
سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 سے جنگ جاری ہے۔ اس تنازع کے دوران ڈرون حملے اہم جنگی ہتھیار بن چکے ہیں اور مختلف علاقوں میں بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔جنگ کے باعث سوڈان پہلے ہی شدید انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں شہریوں کو نقل مکانی، خوراک کی قلت اور صحت کی سہولتوں تک رسائی سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ بھی بارہا خبردار کر چکی ہے کہ بجلی گھروں اور دیگر بنیادی تنصیبات پر حملوں سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے اسپتالوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور دیگر ضروری خدمات کا تسلسل برقرار رکھنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔