ٹلہاسی: امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک یونیورسٹی کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں بچوں سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے کم از کم تین کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے سے قبل افراد کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، تاہم فائرنگ کے محرکات اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فائرنگ ہفتے کی رات فلوریڈا کے شہر ٹلہاسی میں فلوریڈا ایگریکلچرل اینڈ مکینیکل یونیورسٹی کے کیمپس کے قریب پیری اسٹریٹ پر ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔پولیس حکام نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں چھ بالغ افراد اور چھ کم عمر افراد شامل ہیں۔ ان میں سے کم از کم تین افراد کو شدید زخم آئے، جبکہ دیگر نو زخمیوں کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
فائرنگ سے پہلے جھگڑا ہوا، پولیس
ٹلہاسی پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ سے پہلے دو یا اس سے زیادہ افراد کے درمیان جسمانی جھگڑا ہوا تھا۔ تاہم حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ جھگڑا کس بات پر شروع ہوا، فائرنگ میں کتنے افراد ملوث تھے اور آیا اس واقعے کا یونیورسٹی سے براہ راست کوئی تعلق تھا یا نہیں۔پولیس واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ فائرنگ کے اصل محرک اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔ دستیاب معلومات کے مطابق فوری طور پر کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا کسی فرد کے خلاف باضابطہ کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔ٹلہاسی پولیس چیف لارنس ریویل نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں میں بچوں کی موجودگی خاص طور پر دل دہلا دینے والی ہے۔ ان کے بیان سے واقعے میں کم عمر افراد کے زخمی ہونے پر حکام کی تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔
زخمیوں میں 11 سالہ بچہ بھی شامل ہونے کی اطلاع
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق فائرنگ میں زخمی ہونے والا سب سے کم عمر بچہ 11 سال کا ہے۔ تاہم رائٹرز کی جانب سے اس حوالے سے رابطہ کیے جانے پر پولیس نے فوری طور پر اس تفصیل کی تصدیق نہیں کی۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک تقریب کے دوران جھگڑا شدت اختیار کرگیا، جس کے بعد رات تقریباً آٹھ بجے فائرنگ شروع ہوگئی۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور فائرنگ کے حالات جاننے کے لیے پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات جاری، فائرنگ کے محرکات تاحال نامعلوم
یونیورسٹی کے قریب فائرنگ کے اس واقعے نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کردی ہے، خصوصاً اس لیے کہ زخمیوں میں چھ کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے واقعے کے پس منظر، ممکنہ ملزمان اور فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے متعلق تمام تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔