ساجد علی شمس
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ جنگیں ہمیشہ اقوام کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ روک دیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ریاستیں توازن طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے جنگ لڑنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔اس کی بہترین مثال دوسری جنگ عظیم ہے۔بڑی ریاستوں کے مفادات کے خلاف اگر کوئی کمزور ریاست اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہے تو بڑی ریاستیں دنیا کو جنگی فسادات کی بھینٹ چڑھانے سے بھی باز نہیں آتیں۔
نیو ورلڈ آرڈر کی آڑ میں دنیا پر حکمرانی کرنے والا امریکا اس وقت دنیا کے مزاج اور انداز کے ساتھ کھیل رہا ہے۔جب اس کا جی چاہتا ہے دنیا میں جنگ شروع کروا دیتا ہے جب چاہے سیز فائر کروا کر امن پسندی کا لیبل اپنے ساتھ لگوا لیتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کام کرنے میں بڑے ماہر ہیں۔حال ہی میں ایران اور اسرائیل کے مابین ہونے والی جنگ کا تماشا پوری دنیا نے دیکھا۔ایران کے جوہری پروگرام کو آڑ بنا کر ایران پر امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل نے جی بھر کر جارحیت کی۔جس کا ذکر کئی بار اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کرچکے ہیں کہ ہم نے امریکا کے آشیرباد کے بغیر ایران پر حملہ نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کی تردید کرتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ امریکا ایران پر ہونے والے حملوں میں ملوث نہیں البتہ ہم اس جنگ میں شامل ہونے کا سوچ رہے ہیں۔
مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے کہ جب امریکا اور ایران کے درمیان بڑے خوشگوار ماحول میں جوہری پروگرام پر مذاکرات چل رہے ہوتے ہیں اور اچانک اسرائیل مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کردیتا ہے اور متعدد فوجی افسران اور سائنسدانوں کو شہید کردیتا ہے۔اسرائیل کے اس اقدام کی ایران سخت سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے اور اسرائیل پر میزائل حملے اور ڈرون حملے کر کے تل ابیب کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کے ماحول کو خراب کرنے والے اسرائیل کی مخالفت کرنے کی بجائے الٹا اسرائیل کی حمایت کرنے کی بات کردیتا ہے۔اور ہر طرح سے اسرائیل کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرواتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف کے اصول کو پس پشت ڈالنے والا مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں ایک نئی ہلچل پیدا کرنے کی شروعات کردیتا ہے۔ایران اور اسرائیل ایک دوسرے پر خوفناک حملے کرنے لگ جاتے ہیں۔ یقیناً یہ جنگ اسرائیل کیلئے ڈراؤنا خواب بن جاتی ہے۔اسرائیل نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایران جیسا ملک جو کئی دہائیوں سے پابندیوں کا شکار ہے وہ اتنا زبردست جواب دے گا،اس کا کبھی بھی اس نے گمان تک نہیں کیا ہوگا۔ اس جنگ کے دوران ایران اپنے متعدد رہنما،فوجی افسران اور سائنس دان کھو تو دیتا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی سرینڈر والی بات ماننے سے انکار کردیتا ہے۔جب ایران سرینڈر کرنے سے انکار کردیتا ہے اور صبح،دوپہر،شام اسرائیل کو میزائلوں کی ڈوز دینے لگ جاتا ہے تو مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں اور اچانک اس جنگ میں کود پڑتے ہیں۔امریکا کے بارے یہ بات بہت مشہور ہے کہ ایسی جنگ جس میں امریکا کو اپنا فائدہ نظر آرہا ہو بلاوجہ ہی اس میں کود پڑتا ہے اور جس مسئلے میں اس کا کوئی فائدہ نہ ہو اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی جیسے مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیتا ہے اور جب ایران اس کی دھمکیوں میں نہیں آتا تو اس جوہری پروگرام کو آڑ بنا کر ایران کی ان جوہری تنصیبات پر حملہ کردیتا ہے جس پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہان کئی بار تردید کرچکے تھے کہ ایران کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا لیکن مسٹر ٹرمپ کسی کی بات سنتے کہاں ہیں؟ ایران پر حملہ کرنے کے بعد مسٹر ٹرمپ بڑی خوشی کے ساتھ دنیا کو بتاتے ہیں کہ میں نے بہت بڑا معرکہ مارا ہے۔ ایران کی دیدہ دلیری یہ ہوتی ہے کہ وہ اب بھی مسٹر ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیتا ہے۔جب ڈونلڈ ٹرمپ دیکھتے ہیں کہ ایران کسی صورت بھی ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل پر حملے بند کرنے سے باز نہیں آ رہا الٹا مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر سخت حملوں کی وارننگ دے رہا ہے تو مسٹر ٹرمپ دوسرا طریقہ کار اپناتے ہیں اور اچانک جنگ بندی کا اعلان کردیتے ہیں اور الٹا نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرنے لگ جاتے ہیں کہ ایران پر اب حملہ نہیں کرنا،ہم نے اپنے تمام مقاصد حاصل کرلیے ہیں یوں لوگوں کا خون بہانے کے بعد اپنے نام نہاد مقاصد کو حاصل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرنے کا اعلان کرنے لگ جاتے ہیں یوں ڈونلڈ ٹرمپ صاحب رسوائی سے بچنے کیلئے اپنی ڈاکٹرائن کی عملی تصویر دنیا کو دکھانے اور سمجھانے لگ جاتے ہیں۔
معزز قارئین۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل اپنے تمام مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں اس بات کا جواب دینا تو قبل از وقت ہے لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران نے اتنی مشکلات کے باوجود اسرائیل اور امریکا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اور ڈونلڈ ٹرمپ جیسے کردار کو جنگ بندی پرمجبور کیا۔ایران نے جنگ کے دوران اپنے قیمتی اثاثے تو کھو دیے بلخصوص سائنسدان اور فوجی افسران لیکن بڑی بات یہ ہے کہ اس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔جنگ کوئی ملک نہیں جیتتا البتہ ایک ملک ہارتا اس وقت ہے جب دھمکیوں کے بہکاوے میں آکر ہتھیار ڈال دے اور ہار تسلیم کرلے۔ یقیناً ایران کا اسرائیل کو دیا جانے والا جواب اور ڈٹ کر کھڑا ہونا تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔اور ان قوموں کیلئے سبق ہوگا جو کسی طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتے اور اپنی سلامتی،خودمختاری، بقا اور دفاع کیلئے جنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔