غزہ کے حکومتی میڈیا آفس نے شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آئندہ چند دنوں میں 40 ہزار بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیش نظر یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے۔غزہ میڈیا آفس نے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی محاصرے کے باعث ایک لاکھ سے زائد بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں، کیونکہ بچوں کے لیے دودھ اور ضروری غذائی سپلیمنٹس مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہمیں یہاں ایک سوچے سمجھے قتل عام کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں نہ صرف خوراک بلکہ بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی بھی بند کر رکھی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔"
میڈیا آفس نے بتایا کہ غذائی قلت کی وجہ سے مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر ہیں اور ان کی مجبوری ہے کہ وہ صرف پانی پلا کر ان کی بھوک مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔غزہ کے حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر غذائی امداد فراہم کی جائے تاکہ ان معصوم جانوں کو بچایا جا سکے، اور اسرائیلی محاصرے کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔