تھوڑی سی بارش ہوتی ہے اور بجلی چلی جاتی ہے: سندھ ہائیکورٹ کے الیکٹرک پر برہم

نجکاری کے بعد کے الیکٹرک نے اپنے انفرااسٹرکچر میں کیا بہتری کی ہے؟،جسٹس فیصل کمال کا سوال
لوڈ شیڈنگ میں کافی کمی آئی ہے، مزید فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ مستثنیٰ قرار دیا ہے،وکیل کے الیکٹرک
کراچی(آئی این پی) سندھ ہائیکورٹ نے شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک اور نیپرا پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت عدالت نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک اور نیپرا حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم 2025میں ہیں، تھوڑی سی بارش کیا ہوتی ہے بجلی3، 3گھنٹے بند ہوجاتی ہے۔جسٹس فیصل کمال نے سوال کیا کہ نجکاری کے بعد کے الیکٹرک نے اپنے انفرااسٹرکچر میں کیا بہتری کی ہے؟ بتایا جائے کے الیکٹرک نے اپنے یوٹیلیٹی سروس میں کیا بہتری کی ہے؟ عدالت نے سوال کیا نیپرا کیا کررہا ہے؟شہر میں 12  اور 18 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، اس پر نیپرا وکیل نے کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کو شوکازجاری کیے، حال ہی میں کے الیکٹرک پر 2 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اس سے لوڈشیدنگ پر کیا فرق پڑا ہے ؟ کیا کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہوگیا ہے؟  نیپرا کے پاس ٹیکنیکل ٹیم ہے یا نہیں؟۔ جسٹس حسن اکبر نے کہا کہ 2020میں سی ای او کے الیکٹرک نے بیان دیا تھا کہ صفر لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے، اب 2025میں تو شہر میں کہیں لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی ہوگی، اس پر وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ میں کافی کمی آئی ہے، مزید فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ عدالت نے نیپرا حکام کو حکم دیا کہ سروے کرکے بتائیں کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کے بعد انفرااسٹرکچر میں کیا بہتری آئی،  یکم اگست تک جماعت اسلامی کی نیپرا کو جمع کرائی شکایت کا فیصلہ کیا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے 12اگست کو نیپرا اور کے الیکٹرک سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔