لاہور(کرائم رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کیس میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر چنگ چی رکشے بنانے والی کمپنیوں اور ڈیلرز کے لائسنس معطل کرنے کی ہدایت کردی جبکہ عدالت نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو موٹرسائیکل رکشہ کی رجسٹریشن کیلئیایس او پیز بنانے کا حکم دیاہے ،عدالت نے بااختیارڈیلرکو ہرفروخت ہونیوالے رکشہ کی رجسٹریشن یقینی بنانے کا بھی حکم دیا، عدالت نے تین ماہ میں عملدرآمد نہ کرنیوالے موٹرسائیکل رکشہ مینو فیکچرز کے لائسنس منسوخ کرکے سیل کرنے کا عندیہ دیدیا۔ عدالت نے قصور کی گرین بیلٹ کی بحالی کے حوالے سینوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 مئی کو رپورٹ طلب کر لی۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دئیے کہ موٹررکشہ مینو فیکچرزاپنے بااختیارڈیلرزکی تفصیلی رپورٹ محکمہ ٹرانسپورٹ کو دیں، رکشوں کے مجاز ڈیلرزخریدارکو پابند کریں گیکہ15 سے20 دن میں فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرے، ایک ماہ تک کا وقت دیں اگر فٹنس کا سرٹیفکیٹ نہیں لیا جاتا توتمام رکشوں کی پروڈکشن بند کردیں۔سرکاری وکیل نے لوڈر رکشوں سے متعلق رپورٹ میں موقف اپنایا کہ موٹر سائیکل اور لوڈر رکشہ کی رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ سے متعلق اجلاس ہوا ہے ،رکشہ بنانے والے اور رکشوں کے ڈیلرز فٹنس سرٹیفکیٹ یقینی بنائیں گے۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے رکشہ بنانے والی کمپنیوں کو لیٹر لکھا ہے وہ خط فائل کے ساتھ لگا ہے،جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ یہ تو بڑا پیار بھر لو لیٹر ہے، آپ مینوفیکچررزکوخط میں عدالتی کارروائی کا حوالہ دیں۔تمام تھری وہیلرز کو پابند کیا جائے کہ وہ رجسٹریشن کے بعد روڈ پر نکلیں ،ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ تھری وہیلر کیلئے اپنے ایس او پیز بنائے۔ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ پانی کے حوالے سے ابھی بھی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اس حوالے سے ڈولفن کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ایل ڈی اے کا ایک سیاحتی ونگ ہونا چاہئے، ایل ڈی اے ایک علاقہ ڈھونڈے جہاں سیاحت کو فروغ دیا جائے، مال روڈ کو ایک یا دو دن کیلئے بند کیا جائے اور پابند کیا جائے کہ لوگ پیدل چلیں،ایل ڈی اے کے اس اقدام سے پاکستان کا دنیا بھر میں ایک اچھا تاثر جائے گا، لاہور کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے، اس ماہ درجہ حرارت 40 سے زیادہ تک جانا ہے۔