ایران کی القدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی سے متعلق اسرائیلی حملے میں شہادت کی اطلاعات جھوٹی نکلیں۔
عرب میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ جنرل قانی کو حالیہ دنوں میں تہران میں ہونے والے ایک عوامی جشن میں زندہ اور صحت مند دیکھا گیا ہے۔
ویڈیو نے افواہوں کو غلط ثابت کر دیا
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں جنرل قانی کو تہران کی سڑکوں پر عوام کے درمیان پرجوش انداز میں استقبال وصول کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں وہ پرسکون اور ہشاش بشاش دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ عوام انہیں گھیرے میں لیے ہوئے نعرے لگا رہے ہیں۔
مغربی میڈیا کا جھوٹا دعویٰ
اس سے قبل 13 جون کو بعض امریکی جریدوں اور مغربی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنرل اسماعیل قانی شام میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ ان خبروں نے عالمی سطح پر ہلچل مچائی، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان دعوؤں کی تردید کر دی گئی تھی، اور اب ویڈیو ثبوت نے ان افواہوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
تاریخی پس منظر: افواہیں پہلی بار نہیں
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ایرانی اعلیٰ رہنما کی موت سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلائی گئی ہوں۔ اس سے قبل:ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی ساتھی اور اعلیٰ مشیر علی شمخانی کے متعلق بھی جھوٹی شہادت کی افواہ پھیلائی گئی تھی۔علی شمخانی نے بعد میں خود ایک ویڈیو بیان جاری کیا اور کہا کہ وہ "زندہ ہیں اور جب وقت آئے گا، قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"
تہران کا جشنِ فتح اور عوامی جوش
جنرل قانی کی موجودگی تہران میں منعقد ہونے والے اس جشنِ فتح کا خاص پہلو رہی، جو ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ محدود جنگ بندی کے بعد منایا جا رہا تھا۔ تقریب میں:
ہزاروں افراد شریک ہوئے
قومی نغمے، انقلابی اشعار، اور عوامی جوش و خروش نمایاں رہا
جنرل قانی کی موجودگی نے ایرانی عوام کے حوصلے مزید بلند کر دیے
سیاسی اور اسٹریٹجک پیغام
مبصرین کے مطابق جنرل قانی کی عوامی سطح پر موجودگی اور اسرائیلی پروپیگنڈے کو ویڈیو کے ذریعے جھٹلانا:
ایران کی انفارمیشن وارفیئر میں برتری کا مظہر ہے
اور دشمن کے دعوؤں کو میدانِ عمل میں بے نقاب کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے