پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان اعلیٰ سطح کے فوجی وفد کے دورے نے بھارت میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، پاکستان کے فوجی اور خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ حکام کا بنگلادیش کا حالیہ دورہ نئی دہلی کو بے حد فکر میں ڈال چکا ہے، جس کا کہنا ہے کہ وہ اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور قومی سلامتی کے امور میں ضروری اقدامات کرے گا۔یہ دورہ پاکستان کے خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ سطح کے وفد نے بنگلادیش کے اعلیٰ فوجی حکام کے حالیہ دورے کے بعد کیا، جس میں بنگلادیش کے وفد نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ ملاقاتیں پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات میں بہتری کی علامت ہیں، جو بھارت کے لیے تشویش کا باعث بنی ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلادیش میں سیاسی تبدیلیاں، خاص طور پر شیخ حسینہ واجد کی معزولی کے بعد، بنگلادیش کے پاکستان کے قریب آنے کی وجہ بنی ہیں، جس سے بھارت میں اضطراب پیدا ہو گیا ہے۔
شیخ حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے اور ان کے خلاف بنگلادیش میں کرپشن اور قتل کے مقدمات کے چلنے کی تفصیلات بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں۔گزشتہ ہفتے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بنگلادیش کے مسلح افواج ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف افسر سے ملاقات ہوئی تھی جس میں خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور دوطرفہ فوجی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، اس ملاقات میں باہمی فوجی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں پر بھی بات کی گئی تھی۔یہ تمام پیش رفت بھارت کی قومی سلامتی کے لحاظ سے اہمیت اختیار کر چکی ہے، اور اس کے ردعمل میں بھارتی وزارت خارجہ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ آئندہ کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔