پروفیسر حکیم سید عمران فیاض
مُصلّٰی بیچ کر خنجر خرید اے بے خبر مسلم
کہ ٹکرانے کوہے تیری فقیری سے شہنشاہی
دنیا بھر میں یکم مارچ کو عالمی یوم شہری دفاع منایا جاتا ھے۔ اس دن کومنانے کا بنیادی مقصد آفات ارضی و سماوی اور دیگر حادثات کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ معاشرے کی تعمیرہے۔
یوم شہری دفاع جس کوہم سول ڈیفنس ڈے(Civil Defence Day) کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ اس کا خاص مقصدعوام کی خدمت کرنا اور انہیں ریلیف فراہم کرناہے۔ محکمہ سول ڈیفنس کے کنٹرولر ڈپٹی کمشنرہوتے ہیں، جبکہ اس محکمہ کے اندر رضاکاروں پر مشتمل ’’تنظیم شہری دفاع‘‘ہوتی ہے، جو کہ آفات ارضی و سماوی کے دوران اپنی خدمات رضاکارانہ سرانجام دیتی ہے۔ جو کہ سول ڈیفنس آفیسر کی نگرانی میں اپنا کام کرتے ہیں۔
نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویران سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
دنیا میں سول ڈیفنس کا پہلا ادارہ پہلی جنگ عظیم میں ہونے والی تباکاریوں کے دوران عام شہریوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے پہلے وزیراعظم شہیدِ ملت لیاقت علی خان نے شہری دفاع کی اہمیت کے پیشِ نظرسول ڈیفنس کا قیام عمل میں لایا۔ لیکن اُن کی شہادت کے بعد وہ صرف فائلوں تک محدود رہ گیا۔ بعد ازاں عالمی یوم شہری دفاع عالمی سطح پر 1951ء سے ہر سال یکم مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتاھے۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ھے جوانوں میں
نظر آتی ھے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
تنظیم شہری دفاع عوام کے اندر خود اعتمادی۔ خودیقینی۔ اور خودداری کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ یہ وطن عزیز کے داخلی محاظ کو کو مضبوط کرتی ہے۔ تنظیم شہری دفاع نے جس طرح خود کو ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھایا وہ واقعی داد کے قابل بات ہے۔تنظیم شہری دفاع قومی مصائب اور ناگہانی حادثات کا واحد علاج ہے۔یہ وہ واحد تنظیم ہے جوحالت جنگ کی حالت میں ہر قسم کے ہلاکت خیز مواد سے عوام کو نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
شہری دفاع کے عالمی دن کو منانے کا بنیادی مقصد جہاں سول ڈیفنس کی تربیت کو عام کرنا ہے وہاں پر تنظیم کے ساتھ منسلک رضاکاروں کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرناہے۔تنظیم شہری دفاع کی خدمات واقعی لازوال ہیں۔
راقم الحروف 1992ء میں جب ممبر ضلعی امن کمیٹی و پرائس کنٹرول کمیٹی گجرات اپنے فرائض منصبی ادا کررہا تھا۔اُس وقت میں سول ڈیفنس گجرات میں بطور میڈیا کوآرڈینیٹرخدمات بھی سرانجام دیتا رہا۔ اُس وقت ڈپٹی کمشنر و کنٹرولر اقبال احمد بوسن بہت عمدگی و محبت کے ساتھ تنظیم شہری دفاع کو منظم کرنے میں کوئی دقیقہ فزوگذاشت نہ رکھ رہے تھے۔ اُن کی ہدایات پر تنظیم شہری دفاع کے تمام رضاکاران کسی بھی آفات ارضی و سماوی میں سول ڈیفنس آفیسر محمدانور خان ۔ چیف وارڈن الحاج محمد ایوب ۔ ڈپٹی چیف وارڈنز مرزا شوکت علی اور حاجی غلام نبی کی نگرانی میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرتے رہے۔
تنظیم شہری دفاع کے رضاکار اپنی جانوںکی پروا نہ کرتے ھوئے خطروں میں کود جاتے ہیں۔ وہ بھڑکتی ھوئی آگ ہو یا بلند بلند وبالا عمارتوں میں پھنسے شہری۔ بم دھماکے ہوں یا سیلاب سے متاثرہ علاقے۔ وہ ہر دم اورہر وقت سینہ سپر ہو کر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
عالمی یوم شہری دفاع پوری دنیا کی طرح وطن عزیز میں بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ پورے ملک میں ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں سول ڈیفنس کے رضاکاروں کے علاوہ سول سوسائٹیز بھی بھر پور انداز میں شرکت
کرتی ہیں۔موجودہ دور میں جب کہ سول ڈیفنس کی تربیت کی مرد و خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں میں آگاہی کی ضرورت ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ سول ڈیفنس کی تربیت کو سکولوں و کالجوں کے کورس میں شامل کیا جائے۔ تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی حالات سے مقابلہ کرنے کی مکمل اور عملی تربیت مل سکے۔ کیونکہ سول ڈیفنس عالمی سطح پر ایک مسلمہ حیثیت کا نظام ہے۔ شہری دفاع کا عالمی دن ہمیں اس عزم کو دہرانے کی یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو مشکل حالات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رکھیں گے۔
پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ھے اک بہانا
محکمہ سول ڈیفنس ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر خدمات سرانجام دیتا ہے۔ان کے زیراستعمال سامان حسبِ ذیل ہے۔
٭ فولڈنگ اسٹریچر
ٔ٭ میٹل ڈیٹیکٹر
٭ گیس ماسک
٭ بلٹ پروف ھیلمٹ
٭ بم پروف لباس
٭ بم ڈسپوزل ربوٹ
٭ ایکسکلوزیو ڈیٹیکٹرز
٭ ایکسیڈینٹل ایوال
٭ الیکٹرک ٹارچ
٭ ڈرل مشین
٭ لائف جیکٹ
٭ فلیم کٹر
٭ لکٹری کی کشتی
٭ موٹر بوٹ
٭ کٹر
٭ جمپنگ شیٹ
٭ لائف رنگ
٭ فسٹ ایڈ باکس
٭ گاڑی
٭ سیڑھی
اس کے علاوہ فائیر فائٹنگ و ریسکیو آپریشن کی دیگر اشیاء شامل ہوتی ہیں۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
ذرائع کے مطابق سول ڈیفنس کے اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلہ میں تمام سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ موجودہ جدیداور ترقی یافتہ دور میں انہیں ملنی چاہئیں۔ اگر کسی مقام پر کچھ سہولیات موجودہیں لیکن ان میں بعض اِستعمال کے لائق نہیں۔ وہ رضاکار جو اللہ تعالی کی رضا کی خاطر خدمات سر انجام دیتے ہیں انہیں ان کی یونیفارم بھی فراہم نہیں کی جاتی وہ اپنی جیب سے خریدتے ہیں۔
یہ امر قابل ذکرہے کہ کارپوریشن و بلدیہ کے فنڈز میں صرف ایک فیصد فنڈ سول ڈیفنس کو دیا جاتا ہے لیکن شاید وہ بھی کرپشن مافیا کی نظر ہوجاتا ہے۔ ان تک پہنچتا تی نہیں۔سول ڈیفنس کے اہلکاروں اور رضاکاروں کا زمانہ معترف ہے۔لیکن ان کو ملنے والی سہولیات کا فقدان ہے، جو کہ ارباب اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کیا یہ بات باعث افسوس نہیں ہے کہ آفات ارضی و سماوی مثلا ً زلزلہ، سیلاب، طوفان، خشک سالی، بم دھماکے، آگ، دہشتگردی، یا صنعتی حادثات میں سب سے پہلے ریسکیو اداروں کے ساتھ پہنچنے والے تمام ممکنہ سہولیات سے محروم ہیں۔ لہٰذا حکومت کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے عوام کے اندر شعور بیدارکرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پر دم ہے اگر تُو، تو نہیں خطرہ افتاد
/٭٭٭٭٭٭٭٭/