امجد علی
موجودہ جنگی صورت حال میں چند بنیادی سوال ایسے ہیں جن کا جواب تلاش کرنا نہایت ضروری ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا تھا جس کی بنیاد پر اس پر شدید بمباری اور جنگ مسلط کرنا ناگزیر ہو گیا تھا؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پورے ایشیائی ممالک کو لپیٹ میں لیتی یہ جنگ آخر کیوں شروع کی گئی؟ یہ کہا گیا کہ ایران سے ہمیں خطرہ ہے۔ دنیا کی سپر پاور کو چالیس سالہ پابندیوں میں جکڑے، کمزور معیشت والے ملک ایران سے کیسا خطرہ؟ اس سے زیادہ گھٹیا اور لایعنی جواز اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس انداز سے تو آپ کسی بھی ملک پر جب چاہیں حملہ کر سکتے ہیں۔ مسلسل کسی نہ کسی ملک کے ساتھ جنگ، اصلحہ منڈی، تباہی اور ڈویلپمنٹ جیسے موضوعات ہی کو آپ نے ذرائع آمدن بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رویے کو صرف اقوام عالم ہی نہیں بلکہ آپ کی اپنی پارلیمنٹ اور سینیٹ کے نمائندے بھی غلط قرار دے رہے ہیں۔
مثال کے طور پر امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے ایران جنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا۔
‘‘امریکہ کو ایک اور مہنگی اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں نہیں جھونکا جانا چاہیے۔ ہمیں واضح حکمت عملی اور مقصد کے بغیر جنگ میں نہیں جانا چاہیے۔’’
انہوں نے اس جنگ کو ایک غیر ضروری اور مہنگی جنگ قرار دیا
‘‘a costly war of choice.’’
سینیٹر ٹم کین کہتے ہیں
‘‘میں پوری کوشش کروں گا کہ کسی بھی صدر کو ایران کے خلاف غیر ضروری جنگ میں امریکہ کو لے جانے سے روکا جائے۔ یہ جنگ خطرناک اور غیر ضروری ہے۔’’
اسی طرح کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ شروع کرنے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ سینیٹر کرس کونز نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا۔
‘‘ہر جنگ کی ایک بھاری انسانی قیمت ہوتی ہے۔ ہمیں یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہم کیوں لڑ رہے ہیں، مقصد کیا ہے اور اس کی قیمت کیا ہوگی۔’’
مارک کیلی نے امریکی دفاعی حکام کے جنگی بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے خلاف ‘‘no quarter’’ یعنی کسی کو زندہ نہ چھوڑنے کی بات بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور ممکنہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
جیف مرکلی نے ایران کے خلاف جنگ کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا۔۔
‘‘ایران کے ساتھ جنگ ایک تباہ کن اور غیر ذمہ دارانہ غلطی ہوگی۔’’
ان بیانات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جناب صدر، آپ کا یہ اقدام غیر قانونی، غیر ضروری، خطرناک اور انسان دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ جنگ امریکہ کو کسی فوری خطرے سے بچانے یا اس کی ملکی بقا کے لیے شروع نہیں کی گئی۔ بیشتر تبصرہ نگاروں کی رائے میں یہ معاملہ محض ریاستی مفاد تک محدود نہیں بلکہ اس میں شخصیات کے باہمی اختلافات اور بالواسطہ یا بلاواسطہ نفرت کے عناصر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کشمکش ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کسی ذاتی یا سیاسی اختلاف کا تسلسل ہو، خواہ وہ ایرانی قیادت سے ہو یا پس پردہ چین، روس یا شمالی کوریا جیسے طاقتور ممالک کے ساتھ اسٹریٹیجک رقابت کا نتیجہ۔
سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کسی ملک کو اس حد تک دباؤ میں لانا کہ وہ اپنی بقاء کے لیے مجبور ہو کر پوری دنیا کی توانائی کی شہ رگ یعنی پیٹرول کی رسد کو خطرے میں ڈال دے، یا انٹرنیٹ کے عالمی کیبل رابطوں کو منقطع کر کے انسانوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دے، آخر یہ کس قسم کی دانش مندی ہے؟ ایسا قدم دنیا کو ایک ایسی تاریک اور پیچیدہ صورت حال میں دھکیل سکتا ہے جہاں عالمی معیشت، رابطے اور انسانی زندگی شدید بحران کا شکار ہو جائے گی، اور اس سب کا ذمہ دار یقیناً امریکہ ہی قرار ٹھرے گا۔
کم از کم یہ ضروری تھا کہ جنگ کا کوئی واضح اور اعلانیہ مقصد سامنے رکھا جاتا جس کی تکمیل کے بعد ایران یا اس کے اتحادیوں کو ایک پیغام دے کر جنگ سے باعزت طور پر نکلنے کا راستہ موجود ہوتا۔ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ خود امریکی مفکرین اور پالیسی ساز بھی اس بات پر غور کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں کہ وسیع پیمانے پر تباہی اور انسانی قتال کے بغیر اس تنازع سے نکلنے کا راستہ شاید آسان نہیں رہا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس وقت تک ایسا کوئی واضح راستہ دکھائی بھی نہیں دے رہا، بلکہ کشیدگی مزید بڑھتی نظر آ رہی ہے۔
ایک طرف ڈیموکریسی کے دعوے اور دوسری جانب ہٹلیرین طرز عمل، جسے جب چاہو مار دو، اٹھا لو، چھین لو، دوسروں کے وسائل میں سے جو پسند آئے لوٹ لو۔ امریکہ اگر واقعی سپر پاور ہے تو اسے سوچنا ہو گا کہ ایسے بیانات کسی ڈیموکریٹک عالمی طاقت کے شایان شان نہیں ہوتے۔
ایسی زبان اور ایسا لب و لہجہ عموماً دہشت گرد یا غنڈہ عناصر جیسے نان سٹیٹ ایکٹرز استعمال کرتے ہیں۔ عالمی منظرنامے پر ابھرتے ہوئے بعض اقدامات سے بھی یہی تاثر بن رہا ہے۔
اگر آپ کی موجودہ طرز فکر کو درست مان لیا جائے تو دنیا کے کمزور ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ تو آپ ہی سے ہونا چاہیے۔ کیا پھر انہیں بھی یہ حق دے دیا جائے کہ وہ اکٹھے ہو کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر حملہ کر دیں؟ یہ جواز تو آپ خود دنیا کو فراہم کر رہے ہیں۔
صدر محترم، یہ ڈیموکریسی میں نہیں چلتا۔ یہ ذلت، منافقت اور ‘‘میں نہ مانوں’’ جیسے رویے ڈاکوؤں اور سڑیٹ سپائلڈ عناصر کے ہوتے ہیں، رہنماؤں اور عالمی لیڈروں کو زیب نہیں دیتے۔
باخدا! اگر آپ ہٹلر، موسولینی یا ہلاکو خان کی تاریخ پڑھیں گے تو دیکھیں گے کہ وہ سب بھی یہی کچھ کرتے تھے، مگر بالآخر خود بھی مٹ گئے حتی کہ ان کا ذکر بھی دشنام ہی گردانا جاتا ہے
سپر پاور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پوری دنیا کو خوف میں مبتلا رکھا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا کے معاملات معیشت کو بہتر، منظم اور تیز رفتار بنانے کے لیے ایک بہتر عالمی نظام تشکیل دیں۔ دنیا کو نئی سوچ اور نئی کامیابیوں کی منزل دیں۔
آپ کے ذمہ تو لاقانونیت اور قانون شکن عناصر کو روکنا تھا، مگر آپ خود کو ہی کنٹرول نہیں کر پا رہے۔ ایسی ہی بے ہنگم اور بے لگام خواہشات کی داستانیں طاقتوروں کی ایپسٹین فائلز جیسے اسکینڈلز میں رقم ہوتی ہیں۔
اگر آپ واقعی سپر پاور ہیں تو آپ کو انتظار کرنا چاہیے تھا۔ جب ایران آپ پر حملہ کرتا تو وہ واقعی مجرم گردانا جاتا اور آپ کو حق حاصل ہوتا کہ پوری قوت کے ساتھ جواب دیتے۔ حقیقت حال تو یہ ہے کہ آپ نے ایران سے دھوکا کیا پہلے اسے ڈائیلاگ ٹیبل پر بلایا اسی وقت آپ نے اپنے حربی ساز و سامان کو الائن کیا اور ایران پر حملہ آور ہو گئے
مگر اب جو کچھ کیا گیا ہے اس نے خود امریکہ کو عالمی سطح پر مجرم بنا دیا ہے۔ اب بات جیت یا ہار کی نہیں رہی بلکہ امریکی قیادت کے مسلسل بلاجواز اقدامات ایک declining empire یعنی زوال پذیر طاقت کی علامت محسوس ہونے لگے ہیں۔ وینزویلا کے صدر کو ان کی زوجہ سمیت امریکہ کی جانب سے اغوا کیے جانے کے واقعے پر امریکی صدر کی خوشی کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ٹارزن یا جنگلی کنگ کانگ گوریلا اپنے شکار کو دبوچ لینے کے بعد فاتحانہ انداز میں خوشی سے سینہ پیٹ رہا ہو۔ یہ طرز عمل نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ ایک بڑی سپر پاور عالمی طاقت کے منصب کے بھی لائق نہیں تھا۔ اگر سپر پاور نے ون مین شو جیسے ظلم و بربریت پر مبنی رویے ترک کر کے حکمت ‘‘جیو اور جینے دو’’ کی پالیسی اختیار نہ کی تو غیر ضروری تباہی اور سلاٹر ہاؤس جیسی انسانی خون ریزی بہت کچھ بدل دے گی۔ اگر طاقت کو حکمت، برداشت اور عالمی ذمہ داری کے ساتھ استعمال نہ کیا گیا تو جنگ صرف شہروں کو ہی راکھ میں تبدیل نہیں کرے گی بلکہ عالمی طاقت کے توازن کو بھی بدل دے گی۔ ممکن ہے اس مرتبہ جنگ کے اختتام پر دنیا کا پاور سینٹر یونی پولر سے ملٹی پولر پاور سینٹرز کے ڈھانچے میں تبدیل ہو جائے۔
لہٰذا یہ وقت ہے کہ طاقت کے ساتھ ذمہ داری کو بھی یاد رکھا جائے۔ کمزور ریاستوں کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ اپنے الفاظ اور لب و لہجے کو ڈیموکریٹک حدود میں رکھا جائے۔ کیونکہ سپر پاور وہ نہیں ہوتی جو دنیا کو خوفزدہ کرے، یا کسی جہنم جیسے دھکتے الاؤ میں دھکیل دے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو دنیا کو امن، انصاف، دوسروں کے حقوق کے احترام، تعاون اور استحکام کا راستہ دکھائے۔
قوی امید اور اپیل ہے کہ صدر محترم ٹرمپ صاحب اپنے عہدے اور ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے جلد جنگ بندی کا اعلان کریں۔ بصورت دیگر انہیں عالمی امن کی سفارت کاری سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ دوغلہ پن وقتی کامیابی تو دے سکتا ہے مگر ایسے رویے جلد یا بدیر ناکامی، رسوائی کے علاؤہ کچھ نہیں دیتے۔ یہی چلتا رہا تو جلد ہی آپ ڈوبتی امریکن ایمپائر کے آخری صدر، بہادر شاہ ظفر ہی کہلائیں گے۔