برطانیہ میں پولیس کو مزید اختیارات دینے کے لیے نیا کرائم اینڈ پولیسنگ بل آج پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
اس بل کے تحت پولیس کو بغیر وارنٹ گھروں کی تلاشی لینے کا اختیار دیا جائے گا، خاص طور پر چوری شدہ موبائل فونز اور دیگر اشیاء کی بازیابی کے لیے۔
بل کی اہم شقیں:
پولیس بغیر وارنٹ کسی بھی پراپرٹی میں داخل ہو سکے گی، بشرطیکہ وہاں چوری شدہ موبائل، لیپ ٹاپ یا دیگر ٹریک شدہ اشیاء کی موجودگی کا شبہ ہو۔
غیر سماجی رویہ اپنانے والوں کے لیے ’رسپیکٹ آرڈر‘ متعارف کیا جائے گا، جس کے تحت عدالت متعلقہ افراد پر پابندیاں عائد کر سکے گی۔
2014ء کا قانون ختم کیا جائے گا، جس میں 200 پاؤنڈ سے کم مالیت کی چوری کو کم سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔
دکانداروں پر حملہ جرم تصور کیا جائے گا، جیسا کہ کنزرویٹو پارٹی نے 2024ء کے انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا۔
اسپائیکنگ ڈرنک (نشہ آور اشیاء ملانے) کو باضابطہ جرم قرار دیا جائے گا۔
چھریوں کی مشکوک خریداری پر ریٹیلرز کو پولیس کو مطلع کرنا ہوگا۔
آف روڈ بائیکس اور ای بائیکس ضبط کرنے کے لیے پولیس کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔
2029ء تک 13 ہزار اضافی نیبرہُڈ پولیس افسران بھرتی کیے جائیں گے، جن کے لیے حکومت 200 ملین پاؤنڈ فراہم کرے گی۔
حکومت اور اپوزیشن کا موقف
ہوم سیکریٹری یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ اس قانون سے برطانیہ میں قانون کی حکمرانی اور سڑکوں پر تحفظ بحال ہوگا۔ تاہم، اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبے اصل میں ان کی گزشتہ حکومت نے تیار کیے تھے، جنہیں اب محض ’کاپی اینڈ پیسٹ‘ کیا جا رہا ہے۔حکومت کی کوشش ہے کہ یہ بل رواں سال کے آخر تک قانون کی شکل اختیار کر لے تاکہ عوام کو جرائم سے تحفظ اور زیادہ محفوظ معاشرہ فراہم کیا جا سکے۔