بنگلادیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا ہے کہ بنگلا دیش سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بنگلا دیش نے اس معاہدے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ ہم ایک تسلیم شدہ ملک ہیں، اس لیے دنیا بھر میں مسلم ممالک کی قیادت ہمیں اپنی قیادت میں شامل کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ہمایوں کبیر نے کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں کسی اسلامی ممالک کے درمیان کوئی سیکورٹی معاہدہ ہوا ہے تو اس کا حصہ بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، اور اس معاملے کو مثبت طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنگلا دیش اس معاملے میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتا ہے تاکہ خطے اور عالمی سطح پر سلامتی کو مضبوط کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ 7 اگست کو مکہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان نے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو گہرا کرنا اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے الصفا پیلس میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں دستخط کیے۔