تاریخ کے کٹہرے میں

سمیع اللہ ملک(تیسری قسط)
یہ وہ مقام ہے جہاں ایک سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتاہے کہ کیامنافع کی دوڑمیں شامل کمپنیاں اپنے تیارکردہ ہتھیاروں کے آخری استعمال اوران کے انسانی اثرات سے خودکومکمل طور پرالگ سمجھ سکتی ہیں؟دفاعی صنعت کے کارخانوں میں تیارہونے والی مصنوعات بظاہر دھات،ٹیکنالوجی اورمشینری کامجموعہ ہوتی ہیں،مگران کے پس پردہ انسانی زندگیوں پراثرانداز ہونے والی ایک طاقت پوشیدہ ہوتی ہے۔اسی لیے کارخانوں کی چمنیوں سے اٹھتاہوا دھواں محض صنعتی ترقی کی علامت نہیں رہتابلکہ بعض اوقات ان ممکنہ انسانی المیوں کی پیشگی خبربھی بن جاتاہے جوان مصنوعات کے استعمال سے جنم لے سکتے ہیں۔
یہی وہ تضادہے جوجدیددنیا کی دفاعی صنعت کوایک مشکل اخلاقی سوال کے سامنے کھڑاکرتاہے۔ایک طرف تحقیق،ٹیکنالوجی،صنعتی ترقی اورروزگارکے مواقع ہیں؛دوسری طرف انہی ایجادات کے ممکنہ تباہ کن نتائج بھی موجودہیں۔ایک طرف جدیدانجینئرنگ کی کامیابی کاجشن ہے،اوردوسری طرف ان ہی صلاحیتوں کے استعمال سے پیداہونے والے انسانی دکھ کامنظر۔منافع پرمبنی عالمی نظام میں اکثریہ خطرہ پیدا ہوتاہے کہ ہتھیاربنانے والی کمپنیاں اپنی مصنوعات کومحض ایک تجارتی شے کے طورپردیکھنے لگیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہتھیارعام مصنوعات کی طرح نہیں ہوتے۔ان کاتعلق براہِ راست انسانی جانوں،جنگوں اورامن کے امکانات سے ہوتاہے۔اسی لیے دفاعی تجارت کے ساتھ ایک اضافی اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے،جوصرف قوانین کی پابندی تک محدودنہیں بلکہ انسانی ضمیرکے تقاضوں سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے آئینے کی مانندہے جس میں جدیدتہذیب کادوہراچہرہ نظرآتاہے۔ایک طرف انسان اپنی ذہانت،تحقیق اورسائنسی ترقی پرفخرکرتاہے،دوسری طرف وہی ترقی اگربے قابومفادات کے تابع ہوجائے توتباہی کاذریعہ بھی بن سکتی ہے۔مسئلہ ٹیکنالوجی کانہیں بلکہ اس کے استعمال کے مقصداوراخلاقی نگرانی کاہے۔لہذا دفاعی صنعت اورانسانی حقوق کاتعلق دراصل ایک مسلسل امتحان ہے۔یہ امتحان ریاستوں کابھی ہے،صنعتوں کابھی،اورپوری عالمی برادری کابھی۔کیونکہ تاریخ میں صرف وہ ہتھیاریادنہیں رکھے جاتے جوبنائیگئے،بلکہ وہ فیصلے بھی یادرکھے جاتے ہیں جنہوں نے طے کیاکہ ان ہتھیاروں کوکس مقصدکیلئے استعمال کیاجائے گا۔آخرکارسوال یہی ہے کہ کیاانسان اپنی تخلیق کردہ طاقت کا مالک رہے گایا اس طاقت کے ہاتھوں اپنے اخلاقی اصولوں کاغلام بن جائے گا؟ یہی وہ نقطہ ہے جہاں دفاعی صنعت کوصرف طاقت کانہیں بلکہ انسانیت کاآئینہ بھی بنناپڑتاہے۔
کسی بھی معاشرے کی اصل تصویرصرف اس کے سرکاری بیانیوں،حکومتی پالیسیوں یاطاقت کے ایوانوں سے نہیں بنتی،بلکہ اس کے اندراٹھنے والی مختلف آوازوں،اختلافی آرا اور اخلاقی سوالات سے بھی تشکیل پاتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ہردورمیں ایسے افراداورطبقات موجودرہے ہیں جنہوں نے مروجہ بیانیوں کے سامنے کھڑے ہوکراپنے ضمیرکی آوازکو ترجیح دی۔یہی اختلافی آوازیں کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت ہوتی ہیں،کیونکہ جہاں سوال ختم ہوجائیں وہاں شعوربھی بتدریج زوال پذیرہونے لگتاہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے حوالے سے انڈیاکے اندرسامنے آنے والے ردعمل اسی داخلی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں۔کانگریس کے رہنماپون کھیڑاکابیان ایک ایسے اضطراب کی علامت ہے جوایک ایسے معاشرے میں پیداہوتاہے جہاں عدم تشدد،رواداری اورامن کی روایات کوتاریخی شناخت کاحصہ سمجھاجاتارہاہے۔ان کایہ مؤقف کہ کسی بھی ناانصافی کاردعمل ضرورپیداہوتاہے،دراصل تاریخ کے اس اٹل اصول کی یاددہانی ہے کہ ظلم وقتی طورپرخاموش توکیاجاسکتاہے،مگراسے ہمیشہ کیلئے دبایانہیں جاسکتا۔یہ بیان محض ایک سیاسی اختلاف یاجماعتی تنقیدکے دائرے تک محدودنہیں رہتا،بلکہ اسے ایک اخلاقی احتجاج کے طورپربھی دیکھاجا سکتاہے۔یہ اس داخلی آوازکی نمائندگی کرتاہے جواپنے ہی معاشرے سے سوال کرتی ہے کہ قومی مفادات، سفارتی تعلقات اورمعاشی فائدے اپنی جگہ،مگرانسانی اقداراوراخلاقی ذمہ داریوں کامقام کہاں ہے؟
ہرقوم اپنی تاریخ کے کسی نہ کسی موڑپرایسے سوالات سے دوچارہوتی ہے جہاں اسے اپنے ماضی کی اقداراورحال کے فیصلوں کے درمیان توازن قائم کرناپڑتاہے۔یہی وہ لمحہ ہوتاہے جب ایک معاشرہ خودسے پوچھتاہے کہ کیااس کے اصول صرف کتابوں اورتقریروں تک محدودہیں یاعملی فیصلوں میں بھی ان کی جھلک نظرآنی چاہیے۔عدم تشددکی روایت رکھنے والے معاشروں کیلئے یہ سوال مزیدگہراہوجاتاہے کہ طاقت کے استعمال اوراخلاقی اصولوں کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے کیونکہ کسی بھی قوم کی عظمت صرف اس بات سے نہیں پہچانی جاتی کہ وہ کتنی طاقت رکھتی ہے،بلکہ اس سے بھی کہ وہ اپنی طاقت کوکس مقصدکیلئے استعمال کرتی ہے۔پون کھیڑاکاردعمل اسی وسیع ترانسانی بحث کاایک حصہ ہے۔یہ ایک ایسی آوازہے جوشایداقتدارکے بلندایوانوں میں گونج نہ رکھتی ہو، مگرضمیر کی دنیامیں اپنی اہمیت رکھتی ہے۔تاریخ میں اکثرایساہواہے کہ ابتدامیں کمزوردکھائی دینے والی آوازیں ہی بعد میں بڑے سوالات کامرکز بن گئیں۔
آخرکارکسی بھی قوم کااخلاقی سفراسی وقت مکمل ہوتاہے جب وہ اپنے فیصلوں کاجائزہ لینے،اپنے اقدامات پرسوال اٹھانے اوراپنے ضمیرکی آوازسننے کاحوصلہ رکھتی ہو۔کیونکہ طاقت وقتی اثرپیداکرسکتی ہے،مگرتاریخ میں عزت ہمیشہ ان معاشروں کوملتی ہے جو انصاف،انسانیت اوراخلاقی ذمہ داری کومحض الفاظ نہیں بلکہ عمل کاحصہ بناتے ہیں۔انڈیااوراسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات کی تاریخ دراصل ایک تدریجی مگرمسلسل ارتقاکی داستان ہے،جس نے گزشتہ تین دہائیوں میں ایک رسمی سفارتی رابطے سے نکل کرایک گہری تزویراتی اورصنعتی شراکت داری کی شکل اختیارکرلی ہے۔1992میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعدیہ روابط محض سیاسی ملاقاتوں اورسفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ دفاع، ٹیکنالوجی،تحقیق اورمشترکہ پیداوارکے میدانوں میں ایک نئے باب کاآغازہوا۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ تعلق ایک ایسے پل کی مانند بنتاگیا جس نے دومختلف جغرافیوں،دومختلف معاشی نظاموں اوردومختلف دفاعی ضروریات کوایک دوسرے سے جوڑدیا۔اس پل کی بنیادٹیکنالوجی کے تبادلے،دفاعی معاہدوں،مشترکہ منصوبوں اورصنعتی تعاون پر رکھی گئی۔اسرائیل نے اپنی دفاعی مہارت،جدیدٹیکنالوجی اورجنگی نظاموں میں حاصل تجربے کو اس شراکت داری کاحصہ بنایا،جبکہ انڈیانے اپنی وسیع صنعتی صلاحیت،افرادی قوت اورپیداواری استعدادکے ذریعے اس تعاون کوایک بڑے پیمانے پرآگے بڑھایا۔یہ دفاعی اشتراک محض خریدوفروخت کامعاملہ نہیں رہابلکہ مشترکہ پیداواراورتکنیکی تعاون کیایک ایسے نظام میں تبدیل ہواجس میں دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے گئے۔اسرائیل،جوجدیددفاعی ٹیکنالوجی،نگرانی کے نظام،میزائل ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک دفاعی صلاحیتوں میں مہارت رکھتاہے،اورانڈیا،جوایک بڑی صنعتی بنیاداوروسیع پیداواری صلاحیت رکھتاہے،دونوں نے اس تعلق کواپنے اپنے تزویراتی مقاصدکیلئے استعمال کیا۔
اس تعلق کاایک نمایاں پہلویہ بھی ہے کہ بعض دفاعی منصوبوں میں ٹیکنالوجی اورپیداوارکے مراحل دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں۔ایک طرف اسرائیل اپنی تکنیکی مہارت اورتحقیق کاحصہ فراہم کرتاہے،جبکہ دوسری طرف انڈیاصنعتی پیمانے پرپیداواراور تیاری کی صلاحیت فراہم کرتاہے۔اس طرح بعض اوقات ایک ایسادائرہ تشکیل پاتاہے جس میں تیارہونے والادفاعی سامان مختلف مراحل سے گزرکردوبارہ اسی خطے میں پہنچتاہے جہاں اس کی ضرورت یااستعمال کافیصلہ کیاجاتاہے۔
یہ صورتحال جدیددفاعی صنعت کی پیچیدہ حقیقت کوظاہرکرتی ہے،جہاں ہتھیارصرف ایک ملک کی پیداوارنہیں رہتے بلکہ مختلف ممالک کی ٹیکنالوجی،سرمایہ،تحقیق اورصنعتی صلاحیتوں کے امتزاج سے وجودمیں آتے ہیں۔آج کے دورمیں دفاعی تعاون دراصل عالمی سیاست کے بڑے نقشے کاحصہ بن چکاہے،جہاں ہرمعاہدہ صرف فوجی ضرورت نہیں بلکہ سفارتی ترجیحات اورتزویراتی مقاصد کی بھی عکاسی کرتاہے۔تاہم اس اشتراک کاایک دوسراپہلو بھی ہے جوعالمی مباحث میں سوالات کوجنم دیتاہے۔جب دفاعی تعاون کسی ایسے تنازعے سے جڑ جائے جہاں انسانی حقوق،جنگی قوانین اورشہریوں کے تحفظ کے مسائل زیرِبحث ہوں توپھریہ تعلق محض تکنیکی یامعاشی معاملہ نہیں رہتابلکہ اخلاقی اورسیاسی سوالات کاموضوع بھی بن جاتاہے۔
یوں انڈیااوراسرائیل کادفاعی اشتراک ایک ایسے سفرکی داستان ہے جس میں مفادات،ٹیکنالوجی،سفارت کاری اورعالمی سیاست کے کئی رنگ شامل ہیں۔یہ ایک ایساپل ہے جو دوممالک کوقریب لاتاہے،مگراس پل پرگزرنے والے ہرمعاہدے،ہرہتھیاراورہرفیصلے کے ساتھ تاریخ کے سوالات بھی سفرکرتے ہیں۔کیونکہ آنے والاوقت صرف یہ نہیں دیکھے گاکہ کون سی ٹیکنالوجی بنائی گئی،بلکہ یہ بھی دیکھے گاکہ اس طاقت کوکس مقصد کیلئے استعمال کیاگیا۔عالمی سیاست کی دنیامیں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جوسرکاری بیانات کی روشنی میں کم اورخاموش سفارتی راستوں،بندکمروں کی ملاقاتوں اورغیراعلانیہ معاہدوں کے ذریعے زیادہ طے پاتے ہیں۔دفاعی تجارت بھی انہی شعبوں میں شامل ہے جہاں ریاستی مفادات،قومی سلامتی،سفارتی ترجیحات اورمعاشی فائدے ایک دوسرے سے اس قدرجڑجاتے ہیں کہ مکمل شفافیت اکثرپسِ منظرمیں چلی جاتی ہے۔(جاری ہے)