سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی؛وہ ہرلمحے قلم کے ٹک ٹک میں لکھتی ہے،اوروقت کے مقررہ لمحے پراس کے فیصلے سامنے آتے ہیں۔ آج تاریخ ایک بارپھراپنے صفحات پلٹ رہی ہے اوردنیاایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں طاقت کے دعوے،نظریات کے جال اورعلاقائی مفادات کی کشمکش نے عالمی امن وسلامتی کے توازن کوجھنجھوڑکررکھ دیاہے۔دنیاکی سیاست ایک ایسادریاہے جواپنی موجوں میں طاقت اوراثرورسوخ کے رنگ بکھیرتارہتاہے۔تاریخ کے صحیفے بارباریہ سبق دیتے ہیں کہ طاقت کے گھوڑے جوسرحدوں سے باہر دوڑتے ہیں،اکثراندرونی دیواروں کے رخنے سے ہی شکست کھاتے ہیں۔
کوئی بھی قوم یاریاست،چاہے وہ کتنی بھی طاقتورنظرآئے،جب تک داخلی یکجہتی،مضبوط قیادت اورنظم وضبط نہ رکھے،اس کی بنیادیں لرزاں رہتی ہیں۔ طاقت صرف فوجی قوت یا عسکری ہتھیارنہیں،بلکہ داخلی قیادت اورقومی ہم آہنگی کے بغیرعارضی اورغیرپائیداررہتی ہے۔طاقت اورقوت محض جسمانی یاعسکری نہیں بلکہ ایمان،حکمت اورعقل کے ساتھ مربوط ہوتی ہے۔اسی پس منظرمیں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے حالیہ اقدامات نے عالمی سیاست میں ایک نیاہنگامہ کھڑاکردیاہے،جس کی لہریں وینزویلاسے شروع ہوکرممکنہ طورپر دیگر ممالک تک پہنچ سکتی ہیں۔
ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق2006کے آغازمیں ٹرمپ نے وینزویلامیں ایک حیران کن اورمتنازع فوجی کارروائی کی،جس میں نیکولس مادوروکوگرفتارکرکے امریکی خارجہ پالیسی میں غیرملکی مداخلت کے نئے خطرات کومنظرعام پرلادیاگیا۔یہ اقدام محض ایک علاقائی واقعہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست کے آسمان پرگرجتاہواوہ بادل ہے جس کے سائے میں کئی خطرات اورسوالات چھپے ہیں۔اورجونہ صرف طاقت کے استعمال بلکہ عالمی نظام،بین الاقوامی قوانین،اوردیگرممالک کے مستقبل کیلئے ایک غیرمعمولی نشان بن گئی ہے۔یہ واقعہ ہمیں یاددلاتاہے کہ طاقت صرف جسمانی یاعسکری نہیں بلکہ حکمت،قیادت اورداخلی نظام کیساتھ مربوط ہوکرہی پائیداررہتی ہے۔
ٹرمپ کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی جب انہوں نے2025میں نوبل امن انعام نہ جیتنے کے بعداپنی بین الاقوامی ساکھ کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کی۔اس اقدام نے ظاہرکیاکہ وہ وہی سخت گیرحکمت عملی اختیارکررہے ہیں جس کے خلاف ماضی میں خودمہم چلاتے رہے،اوراس سے دنیامیں یہ خدشہ پیداہواکہ دیگرممالک بھی ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔اس کانتیجہ عالمی برادری میں اضطراب اورغیر یقینی صورتحال کے طورپرنمودارہوا۔
جنوری2026کے آغازمیں،ٹائم میگزین کے مطابق صدرٹرمپ نے وینزویلاکے رہنمانیکولس مادوروکوگرفتارکرکے ایک متنازع فوجی اقدام کیا۔یہ اقدام بظاہرایک ملک کے اندرونی معاملے کی شکل اختیارکرتاہے،مگرحقیقت میں یہ پوری دنیاکیلئے ایک انتباہ بھی ہے۔اس کارروائی نے واضح کیاکہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی وہی سخت گیرحکمت عملی اختیارکر رہی ہے جس کے خلاف وہ خودمہم چلاتے رہے۔
کرکس میں یہ کارروائی عالمی تشویش کاسبب بنی،کیونکہ دیگرممالک،خاص طورپرکولمبیا،کیوبا،اورگرین لینڈ،ممکنہ ہدف بننیکے خوف میں مبتلاہوگئے۔خصوصاکولمبیاکے صدرگستاوو پیڈ روکے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں،اورٹرمپ نے پیڈروکومنشیات کے غیرقانونی رہنما قراردے کرکولمبیامیں ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔کیوباکے حوالے سے بھی ٹرمپ کے بیانات میں تضادنظرآیا؛ایک طرف اسے ناکام قراردیا،مگربعدمیں کہاکہ مداخلت کی ضرورت نہیں،یہ خودگرجائے گامگردوسری طرف تنبیہ اورسابقہ ارادوں کااشارہ بھی موجودتھا۔ اس کے اثرات عالمی سیاست میں ایک غیریقینی کیفیت پیداکرگئے۔یہ واضح ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت صرف فوجی یا اقتصادی نہیں بلکہ سفارتی مہارت،نفسیاتی اثرات،اور غیرمستقیم دباکے ساتھ بھی استعمال ہوتی ہے۔
وینزویلاکے بعد،امریکی خارجہ پالیسی ممکنہ ہدف میں کولمبیا،کیوبااوردیگرخطوں کولے کرچلی جارہی ہے۔ٹرمپ کی دھمکیاں،فوجی مداخلت کے اشارے،اوراقتصادی اثرات ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ عالمی طاقتیں اب مقامی مزاحمت،قانون اوراخلاقی حدودکونظرانداز نہیں کرسکتیں۔وینزویلاکی کارروائی نے ٹرمپ کی گرین لینڈ کوامریکامیں شامل کرنے کی پرانی خواہش کودوبارہ اجاگرکیا،جس پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے سختی سے تردیدکرتے ہوئے سختی سے کہاکہ گرین لینڈکے مستقبل کافیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے حکمرانوں کاحق ہے۔برطانیہ اورفرانس نے بھی اس اقدام کومستردکیا۔برطانیہ کے وزیراعظم سرکیئراسٹارمرنے کہاکہ گرین لینڈ کے مستقبل کافیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کے حکمرانوں کاحق ہے،اورہم ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ سرحدیں طاقت سے تبدیل نہیں کی جاسکتیں۔گرین لینڈ،گرین لینڈکے عوام اورڈنمارک کے عوام کاہے اوریہ ان پرمنحصرہے کہ وہ اس کے ساتھ کیاکریں۔ٹرمپ کاکہناتھاکہ امریکاکوقومی سلامتی کے نکتہ نظرسے گرین لینڈ کی ضرورت ہے،جس پرگرین لینڈکے وزیراعظم جینس نیل سن نے واضح کردیاکہ بس بہت ہو چکا،اب ہم مزیددبابرداشت نہیں کریں گے۔ مذاکرات مناسب چینل کے ذریعے اوراحترام کے ساتھ ہونے چاہئیں۔
یہ بیانات ہمیں یاددلاتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستوں کی خودمختاری،عسکری طاقت کے باوجوداولین اہمیت رکھتے ہیں۔یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری،عسکری طاقت کے باوجوداولین اہمیت رکھتے ہیں۔طاقت کے مراکزاگر داخلی نظم وضبط اورقانونی دائرے کی پابندی نہ کریں توان کے اقدامات عارضی اور غیر مستحکم رہتے ہیں۔ایسے جارحانہ اقدامات یہ اشارہ دیتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے بلند بانگ دعوے،اگرمقامی عوام اورقانون کی مخالفت میں ہوں،توصرف بین الاقوامی سطح پر بحران پیداکرتے ہیں بلکہ عالمی امن کیلئے خطرناک صورت حال پیداکردیتے ہیں۔۔
یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ عالمی قوانین اورریاستوں کی خودمختاری،عسکری طاقت کے باوجوداولین اہمیت رکھتے ہیں۔طاقت کے مراکزاگرداخلی نظم وضبط اورقانونی دائرے کی پابندی نہ کریں توان کے اقدامات عارضی اورغیرمستحکم رہتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے وینزویلاکے خلاف امریکی کارروائی کوبین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا ۔ان کاکہناتھا،تمام فریق اقوام متحدہ چارٹرکی پاسداری کریں،فریقین جامع اورجمہوری مکالمہ شروع کریں،تاکہ معاشرے کے تمام طبقات اپنے مستقبل کافیصلہ خودکرسکیں۔امن وسلامتی کے تحفظ کیلئے ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اورعلاقائی سالمیت کے اصولوں کااحترام لازم اورناگزیرہے،اوردھمکی یاطاقت کے استعمال پرپابندی ضروری ہے۔یہ مقف واضح کرتاہے کہ طاقت کے مراکزکی حرکات وسکنات کوسمجھنااورداخلی نظام کی مضبوطی کے بغیرکوئی بھی اقدام مستحکم نہیں رہ سکتا۔یہ مقف اس حقیقت کواجاگرکرتا ہے کہ عالمی امن اورسلامتی کاتحفظ صرف طاقت یادھمکی سے نہیں بلکہ قانون،شفافیت اورداخلی ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہے۔
یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتاہے کہ عالمی قوانین اورریاستوں کی خودمختاری پرکوئی طاقت یکطرفہ قبضہ نہیں کرسکتی،اورہر اقدام کاقانونی واخلاقی پہلوموجودہوناضروری ہے۔
ٹرمپ کی وینزویلاکارروائی کے بعددنیاکے کئی ممالک،خصوصاکولمبیااورگرین لینڈ،ممکنہ ہدف کے طورپردیکھے جانے لگے ہیں۔ امریکاکی اس پالیسی نے عالمی برادری میں اضطراب پیداکیاکہ طاقت کے مراکزکی حرکات کس حدتک عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں۔(جاری ہے)