تاریخ کے کٹہرے میں

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ سوالات محض سیاسی بحث کاحصہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے مستقبل سے جڑے ہوئے سوالات ہیں۔کیونکہ اگرقانون کی روح کمزور پڑجائے اورطاقت کواخلاقی جواب دہی سے بالاترسمجھ لیاجائے تودنیامیں انصاف کاتصورمحض ایک خوبصورت نعرہ بن کررہ جائے گا ۔تاریخ ہمیں بارباریاددلاتی ہے کہ سلطنتیں طاقت سے قائم تورہ سکتی ہیں،مگرعزت اوردوام صرف انصاف سے حاصل ہوتاہے۔لہذابین الاقوامی قانون کااصل امتحان جنگ کے خاتمے کے بعدنہیں بلکہ جنگ کے دوران ہوتاہے؛اصل سوال یہ نہیں کہ طاقتورکیاکرسکتے ہیں ، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیانہیں کرناچاہتے۔کیونکہ ایک مہذب دنیاکی پہچان اس کی قوتِ بازوسے نہیں بلکہ اس اخلاقی قوت سے ہوتی ہے جو اسے اپنی طاقت کوحدود میں رکھنے پرمجبور کرے۔
جدیددنیامیں کسی شے پردرج ’’میڈاِن ‘‘کانشان محض اس کی پیدائش کی جگہ کاتعارف نہیں ہوتا،بلکہ وہ اپنے اندرایک مکمل معاشی، سیاسی اورتزویراتی داستان بھی سموئے ہوتاہے ۔ آج کے عالمی نظام میں صنعت اورسیاست ایک دوسرے سے الگ جزیرے نہیں رہے بلکہ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ کارخانوں میں تیارہونے والی اشیا بھی سفارتی پیغامات،سیاسی ترجیحات اور عالمی طاقت کے توازن کی علامت بن جاتی ہیں۔اسی تناظر میں ’’میڈاِن انڈیا‘‘کے عنوان سے سامنے آنے والی رپورٹ اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ انڈیااوراسرائیل کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط یارسمی شراکت داری تک محدودنہیں رہے،بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک گہری معاشی،صنعتی اور
دفاعی شراکت داری میں تبدیل ہوچکے ہیں۔یہ تعلق ایک ایسے پیچیدہ نظام کی صورت اختیارکرچکاہے جہاں ٹیکنالوجی،سرمایہ،دفاعی پیداوار اورسیاسی مفادات ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑگئے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک پہلوکوالگ کرکے دیکھناآسان نہیں رہا۔
دفاعی صنعت کایہ جال دراصل جدیدعالمی سیاست کی ایک نئی حقیقت کوظاہرکرتاہے۔یہاں ہتھیارصرف جنگی سامان نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشی مفادات،روزگار،تحقیق،صنعتی ترقی اورریاستی اثرورسوخ کے ذرائع بھی بن جاتے ہیں۔منافع اس پورے نظام کی ایک ایسی رگِ جاں بن جاتاہے جس کے بغیراس تعلق کی بقامشکل محسوس ہونے لگتی ہے لیکن جب یہی صنعت انسانی حقوق اوراخلاقی ذمہ داری کے سوالات کے سامنے آتی ہے توترقی اورتجارت کی چمک کے پیچھے چھپے ہوئے تضادات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔یہاں تجارت محض لین دین کامعاملہ نہیں رہتی،بلکہ ایک ایسی خاموش شراکت داری کی صورت اختیارکرلیتی ہے جس میں ہرپرزے،ہر ٹیکنالوجی اورہرجنگی سازوسامان کے ساتھ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی وابستہ ہوجاتی ہے کیونکہ ہتھیاربنانے والے ہاتھ اورانہیں استعمال کرنے والے ہاتھ اگرچہ مختلف ہوسکتے ہیں،مگرتاریخ اکثردونوں کے درمیان تعلق کونظراندازنہیں کرتی۔
یہ دفاعی شراکت داری ایک ایسے درخت کی مانندہے جس کی جڑیں معاشی مفادات کی زمین میں پیوست ہیں اورجس کی شاخیں عالمی سیاست کے افق تک پھیلی ہوئی ہیں۔اس درخت کی آبیاری سرمایہ، ٹیکنالوجی اورسفارتی ضرورتوں سے ہوتی ہے،مگر اس کے سائے میں کھڑے ہوکریہ سوال بھی اٹھتاہے کہ کیاہرمعاشی کامیابی اخلاقی کامیابی بھی ہوتی ہے؟ کیاصنعتی ترقی کاہرقدم انسانی ذمہ داریوں سے آزادہوسکتاہے؟
دفاعی صنعت بلاشبہ کسی بھی ریاست کیلئے سلامتی اورخودانحصاری کاذریعہ سمجھی جاتی ہے،لیکن جب یہی صنعت عالمی تنازعات، جنگی کارروائیوں اورانسانی المیوں سے جڑجائے تواس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔پھرمعاملہ صرف پیداواراورتجارت کانہیں رہتابلکہ اس کے ساتھ ایک بڑااخلاقی سوال وابستہ ہوجاتاہے کہ ترقی کی یہ دوڑکس قیمت پرجاری ہے۔یوں ’’میڈاِن انڈیا‘‘صرف ایک صنعتی شناخت نہیں بلکہ موجودہ عالمی سیاست کیاس نئے جغرافیے کی علامت بن جاتاہے جہاں کارخانے، سفارت خانے اورجنگی میدان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ جغرافیہ ہے جہاں نقشے صرف زمینوں سے نہیں بلکہ مفادات،اتحادوں اورفیصلوں سے بھی بنتے ہیںاورجہاں تاریخ آنے والے وقت میں یہ فیصلہ کرے گی کہ ان شراکت داریوں کو محض معاشی کامیابی کے طورپریادکیاجائے گایاانہیں انسانی ضمیرکے ایک بڑے امتحان کے طورپردیکھاجائے گا۔
تاریخ ہمیشہ دعوؤں اوربیانات سے نہیں لکھی جاتی،بلکہ وہ شواہد،دستاویزات اورحقائق کے ان نقوش سے تشکیل پاتی ہے جووقت کے گزرنے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات میں سامنے آنے والے شواہدبھی اسی نوعیت کے ہیں،جو23اکتوبر2023سے 2025تک کے عرصے میں ہتھیاروں اوردفاعی سازوسامان کی ترسیل کے ایک منظم اورمسلسل عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق انڈیاسے اسرائیل پہنچنے والے جنگی سازوسامان میں ڈرونزکے وارہیڈ،توپ کے گولوں کے خول،بکتربند گاڑیوں کے اجزا،میزائلوں کے پرزے اور دیگر دفاعی آلات شامل تھے۔یہ وہ سامان ہے جوجدیدجنگی حکمتِ عملی میں محض معاون حیثیت نہیں رکھتابلکہ جنگی طاقت کابنیادی ستون تصورکیاجاتاہے۔آج کی جنگیں صرف فوجیوں کے مقابلے کانام نہیں رہیں بلکہ ان کا انحصارٹیکنالوجی،نگرانی کے نظام،درست نشانہ لگانے والے آلات اوردوربیٹھ کرکارروائی کرنے کی صلاحیت پربھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈرونزکے وارہیڈ،میزائلوں کے نظام اوردیگرجدیدجنگی اجزاکومحض دھات کے ٹکڑے یاصنعتی مصنوعات قرارنہیں دیاجاسکتا۔یہ دراصل ایسی قوت کے مظاہرہیں جوجنگ کے انداز،رفتاراوراثرات کوتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایک ڈرون،جو ہزاروں میل دوربیٹھے ایک کنٹرول روم سے چلایاجاسکتاہے،جنگ کومیدانِ جنگ سے نکال کر ٹیکنالوجی کے ایک نئے میدان میں لے جاتاہے؛مگراس کے نتائج زمین پربسنے والے انسانوں کیلئے اتنے ہی حقیقی،دردناک اورتباہ کن ہوتے ہیں۔
تحقیقات سے ظاہرہوتاہے کہ یہ سپلائی محض وقتی یااتفاقی معاملہ نہیں بلکہ ایک مربوط دفاعی زنجیرکاحصہ تھی،جس میں صنعتی پیداوار،تکنیکی تعاون اورجنگی ضروریات ایک دوسرے سے منسلک دکھائی دیتے ہیں۔جدیدجنگوں میں ایسے سازوسامان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کسی بھی فوجی آپریشن کی صلاحیت کوکئی گنابڑھادیتے ہیں اورجنگی فیصلوں پر براہِ راست اثراندازہوتے ہیں۔لیکن اس تمام منظرنامے کاسب سے پیچیدہ اورحساس پہلوانسانی پہلوہے۔جب ایسے جنگی آلات کسی ایسے خطے میں استعمال ہوں جہاں بڑی تعداد میں عام شہری،بچے،خواتین اورغیرجنگجوافرادموجودہوں،توہرحملہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں رہتابلکہ ایک گہرا اخلاقی سوال بن جاتاہے۔سوال یہ اٹھتاہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس جنگی طاقت کواستعمال کرنے والے فریق انسانی زندگی کے تحفظ کوکس حدتک مقدم رکھتے ہیں؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جدیدجنگوں میں ہدف اورغیر ہدف کے درمیان فاصلہ بتدریج کم ہوتاجارہاہے۔کبھی جنگیں میدانوں تک محدود سمجھی جاتی تھیں،مگر اب ان کے اثرات شہروں،گھروں،اسپتالوں اورعام شہری زندگی تک پھیل جاتے ہیں۔ٹیکنالوجی نے جنگ کوزیادہ درست بنانے کادعویٰ ضرورکیاہے،مگراس کے باوجودانسانی نقصان کے سوالات اپنی جگہ برقرارہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جنگی سازوسامان کی ترسیل کامعاملہ صرف دفاعی صنعت یاتجارتی معاہدوں تک محدودنہیں رہتا،بلکہ اس کے ساتھ ایک وسیع تراخلاقی اورقانونی ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔کیونکہ ہتھیاربنانے والا،فراہم کرنے والااوراستعمال کرنے والاتینوں تاریخ کے ایک ہی باب میں درج ہوتے ہیں۔وقت کاقلم صرف میدانِ جنگ میں ہونے والے فیصلوں کونہیں لکھتابلکہ ان فیصلوں کے پس پردہ موجود شراکت داریوں اورذمہ داریوں کوبھی محفوظ کرلیتاہے۔یوں تحقیقاتی شواہدہمیں یہ سوچنے پرمجبورکرتے ہیں کہ جدیددنیامیں جنگ صرف وہاں نہیں ہوتی جہاں گولیاں چلتی ہیں؛اس کی ابتداان کارخانوں سے بھی ہوتی ہے جہاں ہتھیارتیارہوتے ہیں،ان معاہدوں سے بھی جہاں فیصلے کیے جاتے ہیں،اور ان پالیسیوں سے بھی جہاں انسانیت اورمفادکے درمیان ترجیح کاانتخاب کیاجاتاہے۔
دفاعی صنعت ہمیشہ سے ریاستی سلامتی،خود مختاری اورقومی تحفظ کے تصورات سے وابستہ رہی ہے۔اس کابنیادی مقصدیہ سمجھا جاتاہے کہ ایک ریاست اپنی سرحدوں،اپنے شہریوں اوراپنے مفادات کاتحفظ کرنے کیلئے ضروری صلاحیتیں حاصل کرے۔لیکن جب یہی صنعت قومی دفاع کی حدودسے نکل کرعالمی منڈی،تجارتی مفادات اوربین الاقوامی اثرورسوخ کے ایک بڑے نظام کاحصہ بن جاتی ہے تواس کی نوعیت بھی بدلنے لگتی ہے۔پھرہتھیارصرف دفاع کاذریعہ نہیں رہتے بلکہ ایک ایسی عالمی تجارت کاحصہ بن جاتے ہیں جہاں منافع، سیاست اورطاقت ایک دوسرے کے ساتھ جڑجاتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نشاندہی اسی پیچیدہ تضادکی جانب اشارہ کرتی ہے کہ بعض دفاعی کمپنیاں اپنے تجارتی مفادات کے باعث ایسے دائرے میں داخل ہوسکتی ہیں جہاں معاشی فائدہ اورانسانی ذمہ داری ایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔(جاری ہے)