سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے اوراق جب بھی خون کے قطروں سے رنگین ہوتے ہیں تووہ محض مقتولوں کی آہ وبکاکانوحہ نہیں لکھتے،بلکہ اپنے حاشیوں پران خاموش تماشائیوں،مفادکے سوداگروں اور قوت کے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں کے نام بھی کندہ کردیتے ہیں،جوبظاہرغیر جانبداردکھائی دیتے ہیں مگردرحقیقت زمانے کے دھارے کواپنی منافقتوں ومصلحتوں کے مطابق موڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب وقت کی پیشانی پرسوالیہ نشان ابھرتے ہیں،اورتاریخ اپنے قاضیانہ وقارکے ساتھ انسانیت کوکٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہے پوچھتی ہے کہ جب ظلم اپنی انتہاکوپہنچ رہاتھا توتم کہاں تھے؟تمہاری خاموشی کس کے پلڑے میں وزن ڈال رہی تھی؟تمہارے فیصلوں نے کن بستیوں کواجاڑااورکن نسلوں کوبے نام قبروں کے حوالے کیا؟
غزہ کی سرزمین جوکبھی تہذیبوں کے سنگم،روحانیت کی آماجگاہ اورصبر واستقامت کی ایک زندہ تمثیل تھی آج ایک ایسے عہدِ ابتلاسے گزررہی ہے جہاں زمین بارودسے اورآسمان معصوم فریادوں کی بازگشت سے بوجھل ولرزاں ہے ۔یہاں صرف عمارتیں نہیں گرتیں،یہاں امیدیں ملبے تلے دبتی ہیں؛یہاں صرف جسم نہیں مرتے،یہاں خواب دفن ہوتے ہیں؛ اوریہاں صرف خون نہیں بہتا،بلکہ انسانیت کی حرمت کاوقاربھی پامال ہوتاہے۔یہ منظرنامہ محض ایک جغرافیائی خطے کی داستان نہیں بلکہ اس عالمی نظام کی عکاسی ہے جس میں طاقت کوقانون پر،اورمفادکواخلاق پرفوقیت حاصل ہوچکی ہے۔
ایسے میں جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظرعام پرآتی ہے تووہ کسی سرکاری دستاویزکی طرح خاموش نہیں رہتی،بلکہ ایک گونجتی ہوئی صدابن کرابھرتی ہے ایک ایسی صداجوضمیر کے بنددریچوں پردستک دیتی ہے،جوعالمی سیاست کے دبیزپردوں کوچاک کرتی ہے،اورجوہمیں یہ باورکراتی ہے کہ اعدادوشمارمحض گنتی کیلئے نہیں ہوتے،بلکہ وہ اپنے اندرایک پوری داستان سموئے ہوتے ہیں۔ ہرعدد ایک انسانی چہرہ ہے،ہرکھیپ ایک ممکنہ تباہی کی تمہید،اورہرمعاہدہ ایک ایسے فیصلے کی علامت جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ رپورٹ دراصل ایک اخلاقی استغاثہ ہے ایک ایسااستغاثہ جس میں مدعی بھی انسانیت ہے اورمدعاعلیہ بھی وہی انسان،جواپنی عقل، اپنی قوت اوراپنی ترقی پرنازاں ہے۔یہ ہمیں اس کربناک حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جدیددنیامیں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں؛وہ فیکٹریوں کی مشینوں کے شورمیں جنم لیتی ہیں،وہ سفارتی میزوں پررکھے کاغذوں میں سانس لیتی ہیں،اوروہ ان بندکمروں میں پروان چڑھتی ہیں جہاں فیصلے توکیے جاتے ہیں مگران کے اثرات سے بے خبررہنے کادعویٰ بھی کیاجاتاہے۔وہاں جہاں ایک معاہدہ ہزاروں زندگیوں کے زیاں کاپیش خیمہ بن سکتاہے،اورجہاں ایک دستخط تاریخ کے دامن میں ایک نئے المیے کااضافہ کردیتاہے۔
پس یہ لمحہ محض تجزیے کانہیں،احتساب کاہے؛یہ وقت محض بیان کانہیں،شعورکی بیداری کاہے۔سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہورہی ہے ،سوال یہ ہے کہ انسان کہاں کھڑاہے۔کیاوہ طاقت کے ساتھ ہے یاحق کے ساتھ؟کیاوہ خاموشی کے پردے میں خودکومحفوظ سمجھ رہاہے یا سچ کی صدامیں اپناوجود تلاش کررہاہے؟کیونکہ تاریخ،جب اپنافیصلہ سناتی ہے،تونہ وہ طاقت کودیکھتی ہے،نہ دولت کووہ صرف سچ کوپہچانتی ہے اوراسی کودوام بخشتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں درج 2596کھیپوں کاعددبظاہرایک سرد، بے روح اورمحض شماریاتی حقیقت محسوس ہوتاہے،مگر جب اس پرانسانی بصیرت کی روشنی ڈالی جائے تو یہ عدداپنے اندرایک کربناک داستان سموئے ہوئے نظرآتاہے۔یہ محض گنتی نہیںیہ ہرہندسہ ایک چیخ ہے،ہرکھیپ ایک آہ،اورہرترسیل ایک ایسے المیے کی تمہیدجوابھی مکمل طورپر تاریخ کے اوراق پررقم ہوناباقی ہے۔ ان کھیپوں میں بندبارود،دھات اورٹیکنالوجی صرف مادی عناصرنہیں بلکہ وہ خاموش طاقتیں ہیں جولمحوں میں آبادبستیوں کوکھنڈر، مسکراتے چہروں کوماتم کدہ،اورامیدوں کوملبے تلے دفن کردینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ وہ اسلحہ ہے جوکسی سرحدکی حفاظت کے بیانیے میں لپٹاہواسہی،مگراپنے ممکنہ استعمال کے تناظرمیں ایک محصوراوربے بس قوم کی بقاکے خلاف استعمال ہونے کے اندیشوں سے جڑا ہواہے۔یہاں معاملہ صرف ہتھیاروں کی ترسیل کانہیں بلکہ اس شعورکاہے جوان فیصلوں کے پس منظرمیں کارفرماہوتاہے۔کیاایک ریاست،جواپنے آپ کوعالمی برادری کاذمہ دار رکن سمجھتی ہے،اس حقیقت سے بے خبررہ سکتی ہے کہ اس کے بھیجے گئے ہتھیارکن ہاتھوں میں جارہے ہیں اورکن جسموں کونشانہ بنارہے ہیں؟
یہ سوال محض تکنیکی یاسفارتی نہیں،بلکہ اخلاقی اورتہذیبی بھی ہے کیونکہ تجارت اگرچہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کاایک ناگزیر جزوہے،مگرجب یہ تجارت انسانی جانوں کے زیاں سے وابستہ ہوجائے تووہ محض لین دین نہیں رہتی بلکہ ایک شعوری شمولیت کاتاثر دینے لگتی ہے۔ ہاں یہ امرزیرِغورآتاہے کہ آیایہ کھیپیں صرف ایک معاشی سودے بازی کاحصہ تھیں، یا ان کے پیچھے ایک ایسی حکمتِ عملی کارفرماتھی جوعالمی طاقت کے توازن میں اپنامقام مستحکم کرنے کی خواہش رکھتی ہے،چاہے اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ2596کھیپیں دراصل2596 سوالیہ نشان ہیںہرایک اپنے ساتھ یہ پوچھتاہواکہ کیاترقی اورطاقت کی دوڑمیں انسانیت کامقام محض ایک ثانوی شے بن کررہ گیاہے؟کیااعدادوشمارکی چمک میں وہ چہرے اوجھل ہوچکے ہیں جن پران فیصلوں کے اثرات براہِ راست ثبت ہوتے ہیں؟اورکیاعالمی ضمیراب اس قدرمصلحتوں کا اسیر ہو چکا ہے کہ وہ چیخوں کوبھی اعدادمیں تبدیل کرکے ان کی گونج کومدہم کردے؟یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی،مگراس کے ابتدائی ابواب ہی اس قدربوجھل ہیں کہ تاریخ کے صفحات بھی ان کا بوجھ محسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں بعض دستاویزات صرف کاغذکے صفحات نہیں ہوتیں بلکہ وہ تہذیب کے اجتماعی ضمیرکی علامت بن جاتی ہیں۔جینوا کنونشن اورنسل کشی سے متعلق بین الاقوامی قوانین بھی اسی امیدکے مظہرہیں کہ انسان اپنی تباہ کن صلاحیتوں پراخلاقی حدود قائم کرے گا، طاقت کوقانون کاپابندبنائے گا،اورجنگ کے اندھیروں میں بھی انسانیت کے چراغ کو روشن رکھے گا۔یہ قوانین دراصل اس احساس کی پیداوارہیں کہ اگرطاقت کوکسی اخلاقی اصول کاپابندنہ کیاگیاتودنیامحض قوت رکھنے والوں کامیدان بن جائے گی،جہاں کمزوراقوام کی زندگیاں طاقت کیایوانوں میں کیے گئے فیصلوں کی نذرہوجائیں گی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل اینیس کالامارکی تنبیہ اسی عالمی ضمیرکے دروازے پرایک گہری دستک ہے۔ان کایہ مؤقف کہ ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے ایک ریاست بین الاقوامی انسانی قانون اورنسل کشی کی روک تھام سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کے سوالات سے دوچارہوسکتی ہے،محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ ایک اخلاقی احتساب کااعلان ہے۔ یہ دراصل اس بنیادی سوال کوجنم دیتاہے کہ جب کسی عمل کے ممکنہ نتائج انسانی جانوں کے ضیاع اوربنیادی حقوق کی پامالی سے جڑجائیں توکیا صرف تجارتی یا سفارتی مفادات کی بنیاد پراس عمل کوجاری رکھاجاسکتاہے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں ریاستی مفادات اورانسانی اقدارایک دوسرے کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ایک طرف قومی سلامتی،دفاعی صنعت،معاشی مفادات اورسفارتی تعلقات کے تقاضے ہوتے ہیں،جبکہ دوسری طرف انسانی زندگی،عالمی انصاف اوراخلاقی ذمہ داری کا تقاضا۔تاریخ گواہ ہے کہ اکثرمواقع پرطاقتورریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایسے راستے اختیارکرتی رہی ہیں جن پربعدکے ادوار میں سوالات اٹھتے رہے۔یوں قانون اورطاقت کے درمیان ایک خاموش کشمکش جاری رہتی ہے،جس میں اصولوں کی آوازاکثرمفادات کے شورمیں دب جاتی ہے۔
جینواکنونشن کابنیادی فلسفہ یہی ہے کہ جنگ کے دوران بھی انسانیت کی کچھ حدودباقی رہنی چاہئیں۔دشمنی کے میدان میں بھی کچھ ایسے اصول قائم رہیں جوعام شہریوں،بے گناہ انسانوں اورکمزورطبقات کوتحفظ فراہم کریں۔مگرجب ریاستیں خودان اصولوں کونظر اندازکرنے لگیں توقانون اپنی روح کھونے لگتاہے اورصرف کتابوں میں محفوظ ایک نظری تصور بن کررہ جاتاہے۔ایسامحسوس ہوتاہے جیسے انصاف کامیزان موجودتوہے،مگراس کے پلڑے طاقت کے بوجھ سے متاثرہونے لگے ہیں۔
اینیس کالامارکی آوازدراصل ایک ایسی گھنٹی ہے جوسوئے ہوئے عالمی شعورکوبیدارکرنے کی کوشش کرتی ہے۔یہ آوازصرف کسی ایک ملک یاایک واقعے کے بارے میں نہیں بلکہ پورے عالمی نظام سے سوال کرتی ہے کہ کیابین الاقوامی قانون واقعی سب کیلئے یکساں ہے؟کیاطاقتور ریاستیں بھی اسی احتساب کے دائرے میں آتی ہیں جس کاسامنا کمزورممالک کوکرناپڑتاہے؟یاعالمی قانون کااطلاق صرف ان اقوام پرہوتاہے جن کے پاس اپنے دفاع کیلئے سیاسی ومعاشی طاقت کم ہے؟(جاری ہے)