چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے مقدمات کی سماعت میں وقت کی پابندی یقینی بنانے کیلئے کمرہ عدالت میں سٹاپ واچ لگوا دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کے مطابق ہر وکیل کو دلائل کیلئے زیادہ سے زیادہ 10 منٹ کا وقت دیا جائے گا۔ مقررہ وقت مکمل ہوتے ہی کمرہ عدالت میں نصب سٹاپ واچ کی بیپ بجنا شروع ہوجائے گی۔چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ وکلا کے دلائل کیلئے وقت مقرر کرنے سے عدالتی کارروائی کو مختصر اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں زیرِ التوا مقدمات کے جلد فیصلے ممکن ہوسکیں گے۔نئے اقدام کے تحت وکلا کو مقررہ وقت کے اندر اپنے دلائل مکمل کرنا ہوں گے، جبکہ عدالت کی جانب سے کیس کی نوعیت کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔