کاہنہ میں سی سی ڈی اہلکاروں سے متعلق زیادتی کیس میں پیشرفت

کاہنہ میں سی سی ڈی اہلکاروں سے متعلق زیادتی کیس میں پیشرفت

لاہور: کاہنہ میں سی سی ڈی اہلکاروں سے متعلق مبینہ زیادتی کیس میں مزید پیشرفت سامنے آئی ہے۔

 پولیس نے مدعیہ کا نادرا سے ڈیٹا حاصل کرنے کے بعد اس کے دیگر اہلخانہ کا کریمنل ریکارڈ آفس (سی آر او) ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے، جبکہ مختلف ادوار میں درج مقدمات کی تفصیلات کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مدعیہ کی والدہ اور بہن بھی ماضی میں جنسی زیادتی کے مقدمات کی مدعی رہ چکی ہیں۔ حکام ان مقدمات کی تفصیلات، ان میں ہونے والی کارروائی اور موجودہ کیس سے ممکنہ تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں۔

2020 میں ماڈل ٹاؤن میں مقدمہ درج ہوا

پولیس ریکارڈ کے مطابق تھانہ ماڈل ٹاؤن میں سال 2020 کے دوران مقدمہ نمبر 194/20 درج کیا گیا تھا، جس کی مدعیہ موجودہ کیس کی مدعیہ کی والدہ تھیں۔ ایف آئی آر میں متاثرہ کی عمر 13 سال درج کی گئی تھی، تاہم پولیس نے بعد ازاں اس مقدمے میں اخراج رپورٹ مرتب کی۔

2023 میں بھی جنسی زیادتی کا مقدمہ درج ہوا

ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں بھی جنسی زیادتی کا ایک مقدمہ درج کیا گیا، جس میں موجودہ مدعیہ کی بہن نے شکایت درج کروائی تھی۔ مقدمہ نمبر 3027/23 کی ایف آئی آر میں متاثرہ کی عمر 18 سال درج کی گئی، جبکہ پولیس کی جانب سے اس کیس کا نامکمل چالان عدالت میں جمع کروایا گیا تھا۔پولیس ان دونوں مقدمات کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ سابقہ تحقیقات اور موجودہ کیس سے متعلق دستیاب معلومات کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔

مدعیہ کے خلاف 60 لاکھ روپے چوری کا مقدمہ بھی درج

پولیس کے مطابق رواں سال تھانہ نواب ٹاؤن میں مقدمہ نمبر 1751/26 بھی درج کیا گیا، جس میں مدعیہ کی بہن اور بہنوئی کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں مدعیہ پر 60 لاکھ روپے چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔تاہم، یہ الزام مقدمے میں درج دعوے کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا ہے۔

مبینہ منظم گروہ کے کردار کی تحقیقات جاری

پولیس نے جنسی زیادتی کے مقدمات درج کروانے کے حوالے سے ایک مبینہ گروہ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ حکام کے مطابق بلیک میلنگ میں مبینہ طور پر ملوث گروہ اور موجودہ مدعیہ کے کردار سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔پولیس مختلف مقدمات کے ریکارڈ، متعلقہ افراد کے بیانات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔