غیر ملکی لڑکی ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے کیس میں مرکزی ملزم تنویر اور اس کے ساتھی احتشام کو ماڈل ٹاؤن کی عدالت میں پیش کردیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمان کے طبی معائنے اور شناخت پریڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ملزمان کو جج احمد سعید صائم کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان پر شہری شعیب بٹ کو اغوا کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے، جبکہ تفتیشی افسر نے شناخت پریڈ کے لیے ملزم کو جیل بھجوانے کی استدعا کی۔
پولیس کی شناخت پریڈ کے لیے عدالت سے استدعا
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شہری شعیب بٹ کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں ملزمان کی شناخت پریڈ کروانا ضروری ہے۔ پولیس نے اس مقصد کے لیے ملزمان کو جیل بھیجنے کی درخواست کی تاکہ قانونی طریقہ کار کے مطابق شناخت پریڈ مکمل کی جاسکے۔عدالت میں پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کے مطابق ملزمان سے متعلق الزامات کی تفتیش جاری ہے اور شناخت پریڈ اس عمل کا اہم حصہ ہے۔
ملزمان کے وکیل کا تشدد کا الزام
دوسری جانب ملزمان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں ملزمان کا مکمل طبی معائنہ کروایا جائے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان پر رات بھر تشدد کیا گیا ہے، اس لیے ان کے میڈیکل چیک اپ کا حکم دیا جائے تاکہ صورتِ حال واضح ہوسکے۔وکیل کی جانب سے لگائے گئے تشدد کے الزام پر عدالت میں ملزم سے بھی استفسار کیا گیا۔
عدالت میں ملزم کا بیان
سماعت کے دوران فاضل جج نے ملزم سے پوچھا کہ کیا اس پر تشدد کیا گیا ہے اور کیا وہ اپنا طبی معائنہ کروانا چاہتا ہے؟ملزم نے جواب دیا کہ اس پر تشدد ہوا ہے اور وہ اپنا میڈیکل کروانا چاہتا ہے۔اس کے بعد عدالت نے ملزمان کے طبی معائنے اور شناخت پریڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفتیش اور عدالتی کارروائی جاری
کیس میں پولیس کی جانب سے اغوا اور تشدد کے الزامات کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ملزمان کے وکیل نے تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے طبی معائنے کی درخواست کی ہے۔ ان الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی اور تفتیشی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔