احتجاجی سیاست کرے گا کون؟ پی ٹی آئی نے ساری توقعات نئے وزیراعلی پر لگا لیں
نئے وزیراعلی کے آنے سے چیزیں تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں، سہیل آفریدی حکومت چلائیں:رکن قومی اسمبلی
اسلام آباد(آئی این پی )رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مسئلہ ہے کہ احتجاجی سیاست کرے گا کون؟ پی ٹی آئی کی سیاسی قوت انتہائی کمزور ہوچکی ہے،نئے وزیراعلی کے آنے سے چیزیں تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی وزیراعلی بن گئے ہیں لیکن حکومت اور معاملات کو چلانا اصل ٹارگٹ ہے، علی امین کو ہٹایا گیا لیکن پی ٹی آئی کو ادراک نہیں ہوسکا کہ علی امین بڑی مشکل سے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی۔ایک توازن قائم کئے رکھا تاکہ حکومت چل سکے۔ نئے وزیراعلی سہیل آفریدی کے آنے چیزیں تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں، اس وقت کوئی اصلاح، مصالحت کی بات نہیں کی جارہی۔پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کے بیانات مختلف ہیں، انقلاب لانے کیلئے سب کا ایک پوائنٹ پر متحد ہونا ضروری ہے۔ لیڈرشپ کو کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی بقا احتجاجی سیاست کے کوئی دوسری شکل میں نہیں ہے۔لیکن مسئلہ ہے کہ احتجاجی سیاست کرے گا کون ؟ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کی قوت انتہائی کمزور ہوچکی ہے۔