2015 میں ابتدائی لاگت 8 ارب روپے ، 13 ارب تک پہنچ چکی ،ٹریفک جام معمول ، شہری گھنٹوں خوار
لاہور (خصوصی رپورٹ)لال پل انڈر پاس منصوبہ 10 سال سے زیر التوا، ٹریفک جام معمول بن گیا،شہری روزانہ گھنٹوں خوار ہونے لگے، منصوبے کی 2015 میں ابتدائی لاگت 8 ارب روپے تھی جو اب 13 ارب تک پہنچ چکی ہے ۔ تفصیل کے مطابق کینال روڈ لاہور کا اہم ترین ٹریفک کوریڈور ہے، جسے سگنل فری بنانے کے دعوے تو بہت کئے گئے لیکن لال پل پر ریلوے کراسنگ نے سب منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ لال پل ٹریفک جام کا مستقل اڈابن چکا ہے جہاں روزانہ شہری گھنٹوں خوار ہوتے ہیں۔شہباز شریف کے دور وزارت اعلیٰ میں اکتوبر 2015 میں انڈر پاس کی منظوری دی گئی، لیکن 10 سال گزرنے کے باوجود منصوبہ آج بھی کاغذوں کی حد تک محدود ہے۔ اسی دوران بیجنگ انڈر پاس بن گیا ۔ہربنس پورہ سے جلو موڑ تک کینال روڈ کی توسیع کے منصوبے میں بھی لال پل انڈر پاس کو شامل کیا گیا تھا، جس کی ابتدائی لاگت 8 ارب روپے تھی، لیکن عدم دلچسپی کے باعث منصوبہ مؤخر ہوا اور لاگت اب 13 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔کنال روڈ توسیع میں 1632 درخت کاٹے جانے تھے، ماحولیاتی تحفظ اور بجٹ خدشات نے منصوبے کو کھٹائی میں ڈال دیا۔ شہباز شریف کو منصوبے پر بریفنگ بھی دی گئی، مگر اس کے باوجود شہری مسائل کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔لال پل انڈر پاس کا نہ بننا سگنل فری کوریڈور پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہاں ٹریفک جام، شور، دھواں اور قیمتی وقت کا ضیاع معمول بن چکا ہے۔