ویب ڈیسک: کینیڈا کے نئے وزیرِاعظم مارک کارنی نے اچانک 28 اپریل کو قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں عوامی مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔کینیڈا میں عام انتخابات پہلے 20 اکتوبر کو متوقع تھے، مگر مارک کارنی جو صرف دو ہفتے قبل لبرل پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں، اپنی جماعت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے براہِ راست عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔جنوری میں ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد کینیڈا کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی اور اسی دوران سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے استعفیٰ دے دیا تھا۔مارک کارنی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کینیڈا کو اپنے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے اور ہمیں صدر ٹرمپ کی غیر منصفانہ پالیسیوں کے خلاف ایک مضبوط عوامی مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے گورنر جنرل سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی درخواست کی، جو فوری طور پر منظور کر لی گئی۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق لبرل پارٹی کو 42 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جبکہ کنزرویٹو پارٹی 37 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔مارک کارنی کا سیاسی تجربہ کم ہے، لیکن وہ دو بار مرکزی بینک کے گورنر رہ چکے ہیں اور انہیں معاشی پالیسیوں میں مہارت حاصل ہے۔