ایران میں جنگ کے باعث روزانہ 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی
واشنگٹن ((آئی این پی )امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ چین کرے گا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے اور تیل کی ترسیل بحال کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن عالمی تیل مارکیٹ کا اگلا رخ چین کے فیصلے طے کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران میں جنگ کے باعث روزانہ 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، تاہم اس کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں وہ بڑا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی کئی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی، بعض تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔توانائی کے شعبے سے وابستہ تحقیقی ادارے ایمبر کے ماہر دان والٹر کا کہنا ہے کہ چین نے ایشیا اور عالمی معیشت کو بڑے جھٹکے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ماہرین کے مطابق چین نے تیل کی درآمدات کم کر کے، اپنے بڑے ذخائر استعمال کر کے اور صاف توانائی کے استعمال میں اضافہ کر کے اندرونِ ملک قیمتوں کے دبا کو کافی حد تک کم کیا، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں بھی قیمتیں نسبتا قابو میں رہیں