خطرہ کاتوازن

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق امارات نے بھی ایران کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیں،مگران کااعتراف نہیں کیا۔یہ جدید جنگ کاوہ رخ ہے جہاں اعلان سے زیادہ انکاراہم ہوتاہے،اورکارروائی سے زیادہ اس کی تردید۔
ٹرمپ کی ایران مخالف پالیسیوں نے امارات کوامریکاکے مزیدقریب کردیا۔چارکھرب ڈالرکی سرمایہ کاری کاوعدہ محض اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک سیاسی وعسکری وابستگی کااظہار تھا،جس نے امارات کوایک واضح کیمپ میں لاکھڑاکیا۔گویاسرمایہ کاری اوردفاعی تعاون کے ذریعے امارات نے اپنی سلامتی کوامریکی حمایت سے جوڑلیا،جواسے ایران کے مزید قریب لانے کے بجائے دورلے گیا۔
ابو موسی،تنبِ بزرگ اورتنبِ کوچک کے جزائرکاتنازعہ اس کشیدگی کی بنیادہے جوایران اورامارات کے تعلقات میں ایک مستقل کانٹے کی حیثیت رکھتاہے۔یہ محض زمین کاٹکڑا نہیں بلکہ خودمختاری،وقاراورتاریخ کامسئلہ ہے،جوآج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کومتاثر کررہاہیبلکہ یہ مسئلہ نہیں بلکہ خودمختاری،وقاراورتاریخی حق کاسوال بن چکاہے اوریہی وہ بنیادہے جس پرموجودہ کشیدگی کی عمارت کھڑی ہے۔
ایران کے اسلامی انقلاب نے محض ایک سیاسی نظام کوتبدیل نہیں کیابلکہ اس نے پورے خطے کے فکری توازن کوجھنجھوڑکررکھ دیا۔ یہ انقلاب ایک ایسے نظریے کاحامل تھاجو بادشاہتوں کیلئے ایک خاموش مگرگہراچیلنج بن گیا۔متحدہ عرب امارات،جوخودایک موروثی نظمِ اقتدارکانمائندہ ہے،ایران کی اس انقلابی فکرکومحض ایک داخلی تبدیلی نہیں بلکہ ایک برآمدی نظریہ سمجھتاہے۔حزب اللہ،حماس اور حوثیوں جیسے گروہوں کی حمایت نے اس خدشے کومزید تقویت دی کہ ایران اپنے اثرورسوخ کوسرحدوں سے ماوراپھیلانا چاہتاہے ۔ یوں امارات کی نگاہ میں ایران ایک ہمسایہ ملک سے بڑھ کرایک نظریاتی حریف بن گیاایساحریف جونہ صرف جغرافیہ بلکہ ذہنوں پربھی قبضہ جماناچاہتاہے۔
شیعہ سنی تقسیم اوراس کے گردگھومتی سیاست نے خطے میں بداعتمادی کوجنم دیا،جوآج بھی مختلف شکلوں میں موجودہے۔خطہ کی سیاست میں فرقہ واریت ایک ایسازیرِزمین نفرت کا دریاہے جوبظاہر خاموش رہتاہے مگروقت آنے پرطغیانی اختیارکرلیتاہے۔شیعہ سنی تقسیم،جسے بیرونی قوتوں نے بھی اپنے مفادات کیلئے ہوادی،خطے میں بداعتمادی کی ایک مستقل فضاپیداکرچکی ہے۔بحرین،عراق اور دیگرخطوں میں اس تقسیم نے سیاسی کشمکش کوجنم دیا،جس کے اثرات امارات کی پالیسیوں پربھی مرتب ہوئے۔امارات کیلئے یہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ سلامتی کاسوال بن گیاکہ کہیں داخلی استحکام بیرونی اثرات سے متزلزل نہ ہوجائے۔
بین الاقوامی تعلقات میں نظریات سے زیادہ مفادات اہم ہوتے ہیں اورعالمی سیاست میں نظریات اکثرمفادات کے آگے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔امارات کی پالیسی اسی عملیت پسندی کی عکاس ہے،جہاں بقااورترقی کواولین ترجیح دی جاتی ہے۔امارات اورسعودی عرب دونوں نے اپنی بقاکیلئے مختلف حکمت عملیاں اختیارکیں،مگر امارات نے زیادہ جرأت مندانہ راستہ چنا۔اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون،جدید ٹیکنالوجی کاحصول اورامریکا کے ساتھ قریبی تعلقات،یہ اس بات کی علامت ہیں کہ امارات نے جذبات کے بجائے مفاد کواپنارہنمااصول بنایاہے۔یہ وہی فلسفہ ہیجسے تاریخ نے بارہا دہرایاہے کہ ریاستیں دوست یادشمن نہیں رکھتیں،بلکہ صرف مفادات رکھتی ہیں۔
ابراہم اکارڈ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک نئی سفارتی فکر کا مظہر ہے، جس نے عرب دنیا کے روایتی بیانیے کو چیلنج کیا۔ اس معاہدہ کے بعد امارات اور اسرائیل کے تعلقات نے غیر معمولی رفتار پکڑی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دیا۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے گویا ایک نئی راہ اختیار کیامارات کی حکومت کے مطابق ایسی راہ جو ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داری کی طرف تو لے جاتی ہے، مگر ساتھ ہی اسے علاقائی تنہائی کے خطرے سے بھی دوچار کردیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے دروازے کی مانند ہے جو امکانات بھی رکھتا ہے اور اندیشے بھی۔
اگرچہ امارات میں عوامی سطح پرکھلی مخالفت نظرنہیں آتی،مگراندرونی سطح پرسوالات موجودہیں۔یہ خاموشی کسی اطمینان کی علامت نہیں بلکہ یہ کسی بھی وقت ایک دباؤمیں تبدیل ہوکر اضطراب کی نشانی بن سکتی ہے۔ریاستی کنٹرول اورمحدوداظہارِرائے کے ماحول میں عوام کے خیالات اکثرسطح پرنہیں آتے،مگریہ زیرِسطح بہنے والے جذبات کسی بھی وقت سیاسی دباؤ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔یہ سوال کہ’’ہم کس سمت جا رہے ہیں؟‘‘ایک ایساسوال ہے جوہرباشعورمعاشرے کے دل میں ضرورجنم لیتاہے۔
امارات کی معیشت اس کی سب سے بڑی اوراصل قوت ہے ،سیاحت،سرمایہ کاری اورعالمی تجارت کاایک روشن مرکزمگرجنگی حالات نے اس چمک کودھندلادیاہے،اوریہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کی بجائے استحکام کوترجیح دیتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کااعتماد، سیاحوں کی آمداورکاروباری سرگرمیاں سب امن واستحکام سے وابستہ ہیں۔اسی لیے امارات ایک ایسے توازن کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنے تعلقات بھی برقراررکھ سکے اورخودکوبراہِ راست تصادم سے بھی بچاسکے۔
یہ معاہدے خطے میں ایک نئی سفارتی روایت کاآغازہیں،جہاں مفادات نظریات پرغالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔امریکاکی خواہش ہے کہ ان معاہدوں کادائرہ مزیدوسیع ہو،مگر غزہ کی جنگ اورخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس عمل کوسست کردیاہے۔سعودی عرب جیسے ممالک اب بھی محتاط ہیں،جواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ امارات کاراستہ سب کیلئے قابلِ قبول نہیں۔اسرائیل اور امارات کے درمیان دفاعی تعاو ن خصوصا آئرن ڈوم اوردیگردفاعی معاہدے اس بات کاثبوت ہیں کہ امارات ایک نئے دفاعی بلاک کاحصہ بن چکا ہے ۔امارات کایہی کردارایک نئی مثال قائم کرتاہے۔یہ اتحادخطے میں طاقت کے توازن کوبدل رہاہے،مگرساتھ ہی ایران کیلئے اشتعال کا باعث بھی بن رہاہے۔یوں یہ تعاون ایک طرف تحفظ کاذریعہ ہے تودوسری طرف خطرے کاپیش خیمہ۔
ایران کی نظرمیں امارات اب ایک اہم ہدف بن چکاہے،کیونکہ اس کے امریکااوراسرائیل سے تعلقات اسے ایک مخالف کیمپ کاحصہ بنا دیتے ہیں۔یہ صورتحال امارات کیلئیایک نئے دورکاآغازہے جہاں اسے اپنی سلامتی کیلئیغیرمعمولی اقدامات کرناہوں گے۔امارات کی پالیسی اسے دیگرعرب ممالک سے دورلے ج رہی ہے،جواسے طویل المدتی سفارتی چیلنجزسے دوچارکرے گی۔خطے میں اسرائیل کو اب بھی ایک بڑا خطرہ سمجھاجاتاہے۔یہ فاصلہ اگربڑھتارہاتوایک مستقل سفارتی خلیج میں تبدیل ہوسکتاہے،جوخطے کی وحدت کو متاثر کرے گا۔ایک طرف اسرائیل،امریکااورممکنہ طورپربھارت کابلاک،اوردوسری طرف ترکی،پاکستان اورایران کے قریب ممالک یہ تقسیم ایک نئے عالمی نظام کی نشاندہی کرتی ہے ایک نئے عالمی توازن کی نشاندہی کرتی ہے،جہاں اتحادنظریات کی بجائے مفادات کی بنیادپر تشکیل پارہے ہیں۔
ابتدائی سوالات کاجواب اب واضح ہوجاتاہے۔امارات ایک مختلف سمت اختیارکررہا ہے اورایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں اس کے فیصلے اس کے مستقبل کاتعین کریں گے۔ایران کے ساتھ اس کی کشیدگی اوراسرائیل سے قربت اسے ایک نئے راستے پرلے جارہی ہے، ایساراستہ جومواقع بھی رکھتاہے اورخطرات بھییہ ایک ایسی سمت جواسے عالمی طاقتوں کے قریب لے جارہی ہے مگرعلاقائی سطح پرتنہابھی کرسکتی ہے۔ایران کے ساتھ اس کی دشمنی محض وقتی نہیں بلکہ تاریخی،نظریاتی اورجغرافیائی عوامل کانتیجہ ہے۔ مشرقِ وسطی اب محض جغرافیہ نہیں بلکہ نظریات،مفادات اورطاقتوں کاایک ایساپیچیدہ جال بن چکاہے جواہم گرہ کی حیثیت رکھتا ہے ،ایسی گرہ جواگرکھل جائے توپورانظام متاثرہو سکتا ہے،اوراگرمضبوط ہوجائے توایک نئی ترتیب جنم لے سکتی ہے۔
یہ پوری داستان دراصل طاقت،خوف،مفاداورحکمت عملی کی ایک پیچیدہ کہانی ہے اورمتحدہ عرب امارات اس کہانی کاایک مرکزی کردارہے ایک ایساکردارجوبیک وقت کئی محاذوں پرکھیل رہاہے۔تاریخ کاپہیہ گھوم رہاہے،اورآنے والے دن طے کریں گے کہ یہ حکمت عملی استحکام لاتی ہے یاایک نئے بحران کوجنم دیتی ہے۔یادرہے کہ امارات کیلئے یہ ایک حساس اورنازک موڑہے جہاں وہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکااوراسرائیل کے ساتھ تعلقات کوترقی اوراتحادکی علامت سمجھتاہے لیکن وہ یہ بھول رہاہے کہ اس سراب کی آڑمیں دراصل تنہائی اورعلاقائی کشیدگی کے گڑھے اس کے منتظرہیں۔یہ فیصلہ کہ وہ کس سمت بڑھتاہے،نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ پورے مشرقِ وسطی کے توازن کوبھی متاثرکرے گا ۔گویایہ کہانی محض ایک ملک کی نہیں،بلکہ ایک پورے عہدکی کہانی ہیایساعہدجہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجہاں ہرفیصلہ تاریخ کے اوراق پرایک نئی سطرلکھ رہاہے۔