لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) نے شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس کا 42 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں اہم سیاسی شخصیات کی بریت اور بعض ملزمان کو سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔
بری ہونے والے افراد:
تفصیلی فیصلے کے مطابق:شاہ محمود قریشی سمیت 6 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن ان ملزمان کے خلاف کیس ثابت نہ کر سکی۔تفتیشی افسران شاہ محمود سمیت ان چھ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگر شاہ محمود قریشی کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔
شاہ محمود قریشی کے متعلق اہم نکات:
ان پر 7 مئی کی میٹنگ میں شرکت کر کے سازش کرنے کا الزام تھا۔عدالت نے تسلیم کیا کہ شاہ محمود قریشی کسی غیرقانونی احتجاج میں شامل نہیں ہوئے۔9 مئی کو وہ کراچی میں موجود تھے، اس کے شواہد بھی عدالت میں پیش کیے گئے۔عدالت نے واضح کیا کہ کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں جو انہیں مجرم قرار دے۔
سزا پانے والے ملزمان:
فیصلے کے مطابق، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور دیگر 6 افراد سمیت 8 ملزمان کے خلاف کیس ثابت ہوا۔ان تمام مجرموں کو 38،38 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ہر مجرم کو 3 لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔افضال، علی حسن اور ریاض جو ضمانت پر تھے، انہیں گرفتار کر کے جیل حکام کے حوالے کر دیا گیا۔جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید قید کاٹنی ہو گی۔
مجموعی قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے جڑے اہم مقدمات میں سے ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں عدالت نے شواہد کی بنیاد پر سخت اور واضح فیصلہ دیا۔شاہ محمود قریشی کی بریت ایک بڑی قانونی اور سیاسی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، جبکہ دیگر کو دی جانے والی طویل قید کی سزائیں مقدمے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔