انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے جج منظر علی گل نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی ضمانت خارج کرنے کا دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق، مقدمے کے کئی گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی گواہوں کے بیانات آئندہ چند روز میں ریکارڈ کر لیے جائیں گے۔ عدالت نے لکھا کہ چونکہ کیس اپنے اختتامی مراحل میں ہے، اس لیے ضمانت پر فیصلہ کیس کے میرٹ یا ڈی میرٹ پر تبصرہ کیے بغیر کیا جا رہا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر اپنا ذہن ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مقدمے کا فیصلہ چار ماہ میں کرنا ہے، اور اسی بنیاد پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت جاری ہے۔یہ مقدمہ تھانہ سرور روڈ پولیس نے 9 مئی کے واقعے پر درج کیا تھا، جس میں لاہور کی راحت بیکری کے باہر جلاؤ گھیراؤ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے وکیل رانا مدثر عمر کے توسط سے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جو اب مسترد کر دی گئی ہے۔