اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی (اپوزیشن) قانون سازی میں حصہ لینے کے بجائے احتجاجی سیاست تک محدود نظر آئی۔ عوامی مسائل پر مئوثر کردار ادا کرنے کے بجائے اپوزیشن شخصیت پرستی کی سیاست سے باہر نہ آ سکی اور ایوان میں اپنی رائے دینے سے گریزاں دکھائی دی۔مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے حکومت پر بلاجواز تنقید، نعرے بازی، پلے کارڈز اٹھانے اور سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنے دے کر احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی کا معمول کا اجلاس ہو یا مشترکہ اجلاس، اپوزیشن کا کردار شور شرابے اور ہنگامہ آرائی تک ہی محدود رہا۔ کئی ارکان ایوان میں آ کر حاضری لگاتے، حکومت کے خلاف نعرے لگاتے، کورم کی نشاندہی کرتے اور پھر ایوان سے باہر چلے جاتے جس کے باعث انہیں اندر ہونے والی قانون سازی اور بحث سے آگاہی نہ رہتی۔