فیملی عدالتوں میں طلاق کے دعووں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

فیملی عدالتوں میں طلاق کے دعووں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

لاہور میں خاندانی عدالتوں میں طلاق اور خلع کے دعوؤں میں اضافے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق لاہور کی فیملی کورٹس میں روزانہ تقریباً 10 سے 15 خلع اور طلاق کے کیسز دائر ہو رہے ہیں، جبکہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 100 خواتین کو خلع یا میرٹ کی بنیاد پر ڈگریاں بھی جاری کی گئی ہیں۔عدالتی طریقۂ کار کے مطابق خلع کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد متعلقہ افراد کو یونین کونسل سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے، جہاں طلاق کی باضابطہ رجسٹریشن کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہی قانونی طور پر دوسری شادی ممکن ہوتی ہے۔قانونی ماہر ڈاکٹر زین العابدین کے مطابق کچھ کیسز میں خواتین خلع کے لیے “نفرت” یا تعلق ختم ہونے کا مؤقف اختیار کرتی ہیں، جس کی بنیاد پر عدالتیں فیصلہ کرتی ہیں۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ یونین کونسل سے باضابطہ طلاق سرٹیفکیٹ کے بغیر دوسری شادی کرنے کی صورت میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق خلع اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات سماجی، معاشی اور ذاتی نوعیت کی ہو سکتی ہیں، جن پر مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔