جب اعتمادٹوٹ جائے

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری ایک ایساعمل ہے جسے بظاہردفاعی بہتری کے طورپرپیش کیاجاتاہے،مگرحقیقت میں یہ ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتاہے۔جوہری ہتھیاروں کی جدیدکاری دراصل ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتی ہے،جوتباہی کانیاچہرہ اورایک نہایت خطرناک رجحان ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے گئے ہتھیار
زیادہ تیز،زیادہ درست اورزیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔جوہری ہتھیاروں کی جدیدکاری دراصل ان کے استعمال کے امکانات کوبڑھاتی ہے۔یہ ایک ایساکھیل ہے جس میں جیتنے والا بھی ہارتا ہے۔
یہ ترقی ایک ایسے خطرناک رجحان کوجنم دیتی ہے جس میں ہتھیاروں کو’’قابلِ استعمال‘‘بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یعنی وہ محض خوف کی علامت نہ رہیں بلکہ عملی میدان میں استعمال  کے قابل بھی ہوں۔یہ تصورانسانی تاریخ کیلئے ایک بھیانک موڑثابت ہوسکتاہے، کیونکہ جب ہتھیارقابلِ استعمال بن جائیں توان کے استعمال کاامکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
نیو سٹارٹ معاہدے کاخاتمہ دراصل ایک ایسے خلاکی نشاندہی کرتاہے جسے پرنہ کیاگیاتوعالمی امن خطرے میں پڑسکتاہے اوردنیاایک نئے اسلحہ جاتی بحران کاشکارہوسکتی ہے۔یہ معاہدہ امریکااورروس کے درمیان اعتماداورتوازن کاایک ستون تھا،اوراس کے خاتمے نے اس ستون کوگرادیاہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ دونوں ممالک بغیرکسی مؤثرنگرانی کے اپنے ہتھیاروں کے ذخائرکوبڑھاسکتے ہیں۔یہ خلا نہ صرف ان دونوں ممالک کیلئے بلکہ پوری دنیاکیلئے خطرناک ہے،کیونکہ اس سے اسلحہ جاتی دوڑکوتقویت ملتی ہے۔
دراصل تین بنیادی عوامل دنیاکوجوہری پھیلاؤاورایک غیریقینی مستقبل اورخطرناک سمت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
٭اول،چین کی تیزرفتار صنعتی توسیع،یہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے جواپنے عسکری اثر ورسوخ کوبڑھانے کیلئے جوہری ہتھیاروں کو ایک اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔
٭دوم،روس کی یوکرین جنگ ،اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ جوہری دھمکیاں بھی ایک مؤثرسیاسی ہتھیاربن سکتی ہیں۔
٭سوم، امریکاکی غیرمتوقع پالیسی یہ عنصر نہ صرف حریفوں بلکہ اتحادیوں کیلئے بھی عدم یقین پیداکرتاہے۔
یہ تینوں عوامل مل کرایک ایسی فضاپیداکرتے ہیں جس میں ہر ریاست خودکوغیرمحفوظ محسوس کرتی ہے،اوریہی احساس جوہری ہتھیاروں کی طرف جھکاؤکوبڑھاتاہے۔
یوکرین نے اپنے جوہری ہتھیارترک کیے مگراسے حملے سے نہیں بچایاجاسکا۔یوکرین کی مثال جہاں ایک عبرت ناک داستان ہے وہاں دیگرممالک کیلئے ایک اہم اورخطرناک سبق بن چکی ہے۔اس نے اپنی جوہری صلاحیت ترک کرکے مغربی ممالک پراعتماد کیالیکن ضمانتوں کے باوجوداسے حملے سے نہیں بچایاجا سکا،اورتین دہائیوں بعداسے اس اعتمادکی بھاری قیمت چکاناپڑی جومسلسل ابھی جاری ہے۔یہ واقعہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑہے، کیونکہ اس نے یہ پیغام دیاکہ بین الاقوامی ضمانتیں ہمیشہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتیں۔ یہ سبق دیگرممالک کیلئے نہایت اہم ہے،او یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سلامتی کیلئے خودپرانحصارکرنے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
لیبیااورشمالی کوریاکی مثالیں عالمی سیاست کے دومتضادپہلوں کونمایاں کرتی ہیں۔لیبیانے اپنے جوہری ہتھیارترک کیے اوربالآخر بیرونی مداخلت کاشکارہوکرعبرتناک انجام کوپہنچا، جبکہ شمالی کوریانے اپنے پروگرام کوجاری رکھااورآج تک محفوظ ہے۔یہ تقابل جہاں عالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتاہے وہاں ایک تلخ حقیقت کوبھی ظاہرکرتاہے۔یہ تقابل نہ صرف عالمی نظام کی اخلاقی کمزوری کو بے نقاب کرتاہے وہاں عالمی نظام میں اصولوں سے زیادہ طاقت کی اہمیت ہے۔یہی وہ سوچ ہے جودیگر ممالک کوجوہری ہتھیارحاصل کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔
تمام ترخدشات کے باوجودیہ کہنادرست ہوگاکہ جوہری دوڑناگزیرنہیں۔یہ انسان کے فیصلوں پرمنحصرہے۔جوہری ہتھیارنہ صرف مہنگے،خطرناک اورپیچیدہ  ہیں،ہرریاست انہیں حاصل نہیں کرسکتی،اورنہ ہی ہرریاست کوان کی ضرورت ہے بلکہ ان کے حصول کے ساتھ اہم اقتصادی مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں۔اگرچہ حالات اس سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں،مگرتاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان نے کئی بارتباہی کے دہانے سے واپس لوٹنے کاراستہ اختیارکیاہے۔
جوہری ہتھیاروں کے حصول کے ساتھ بے شمارمشکلات جڑی ہوتی ہیں،تکنیکی پیچیدگیاں،مالی اخراجات،بین الاقوامی پابندیاں اور سفارتی تنہائی۔یہی عوامل کئی ممالک کواس راستے سے دوررکھتے ہیں۔مزید برآں،عالمی برادری کی جانب سے اجتماعی اقدامات، معاہدوں کی بحالی اوراعتماد سازی کی کوششیں اس دوڑکوروک سکتی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں امیدکی کرن نظرآتی ہیایک ایسی کرن جواگرچہ مدھم ہے،مگرمکمل طورپربجھی نہیں۔
یہ نکات ہمیں اس حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں کہ دنیاایک نازک موڑپرکھڑی ہے۔جوہری ہتھیاروں کی دوڑمحض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے۔دنیااس وقت ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں سے دوراستے نکلتے ہیںایک جنگ اورتباہی کی طرف، دوسراامن اورمکالمے کی طرف۔یہ فیصلہ انسان کوکرناہے کہ وہ کس راستے کاانتخاب کرتا ہے ۔تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا غرورعارضی ہوتاہے،مگراس کے اثرات دیرپا۔اگرعالمی برادری نے اس موقع پردانشمندی کامظاہرہ نہ کیاتویہ جوہری دوڑایک ایساالمیہ بن جائے گی جس کاخمیازہ آنے والی نسلوں کوبھگتنا پڑے گااوروہ ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اگرعقل وتدبرکوترجیح دی گئی توشایدابھی بھی وقت ہے کہ اس آگ کوبجھایاجاسکے،اس سے پہلے کہ یہ پوری دنیااس کی لپیٹ میں آجائے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ دنیاایک بارپھر مکالمے کی طرف لوٹے،اعتمادکی بنیادیں استوارکرے،اوراس حقیقت کوتسلیم کرے کہ امن کی ضمانت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ انسان کے باطن میں پوشیدہ ہے۔ورنہ یہ جوہری دوڑ
ایک ایساالمیہ بن جائے گی جس کااختتام کسی کے حق میں نہیں ہوگانہ فاتح کے،نہ مفتوح کے،بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک مشترکہ شکست کی صورت میں۔اگرانسان نے اس بحران کوسنجیدگی سے نہ لیاتو یہ صرف ریاستوں کانہیں بلکہ پوری انسانیت کاالمیہ بن جائے گا۔اگردانش،تدبراوراخلاقی جرات کوبروئے کار لایاگیاتوشاید یہ بحران ایک نئے عالمی شعورکو جنم دے ا،یساشعورجوطاقت کے بجائے امن کوترجیح دے۔
جب تاریخ اپنے اوراق سمیٹتی ہے تووہ صرف واقعات درج نہیں کرتی بلکہ قوموں کیفیصلوں کاحساب بھی رکھتی ہے۔آنے والی نسلیں جب اس دورکودیکھیں گی تووہ یہ نہیں پوچھیں گی کہ کس کے پاس کتنے ہتھیارتھے،بلکہ یہ سوال کریں گی کہ جب دنیاتباہی کے دہانے پرکھڑی تھی توانسانیت کے پاس کتنی دانش،کتنی ہمت اورکتنی بصیرت تھی۔آج کاانسان ایک ایسے دوراہے پرکھڑاہے جہاں ایک راستہ آگ کی وادیوں میں اترتاہے اوردوسراامن کے سبزہ زاروں کی طرف جاتاہے۔مگرالمیہ یہ ہے کہ آگ کاراستہ ہمیشہ زیادہ روشن دکھائی دیتاہے چمکدار،پرکشش،مگراندرسے کھوکھلااور مہلک۔اگرہم نے اس فریب کونہ پہچاناتو وہ دن دورنہیں جب زمین کاسینہ بارودسے بھرجائے گااورآسمان انسان کی بے بسی کا گواہ بن جائے گا۔
مگر ابھی وقت باقی ہے۔ابھی انسان کے پاس وہ اختیارموجودہے جس کے ذریعے وہ تقدیرکادھارابدل سکتاہے۔اگردلوں میں نفرت کی جگہ ہمدردی لے لے،اگرطاقت کے نشے کی جگہ عقل وتدبرکوفوقیت دی جائے،اگرمفادات کی دیواروں کوگراکر انسانیت کے پل تعمیرکیے جائیںتوشاید یہ دنیاایک بارپھر امن کاگہوارہ بن سکتی ہے۔یہ تحریرایک گزارش ہے، ایک التجاہے،ایک عہدکی پکارہیکہ اسے صرف پڑھ کرنہ چھوڑدیاجائے بلکہ اسے دل میں جگہ دی جائے،سوچ میں بسایاجائے،اورآگے بڑھایاجائیکیونکہ امن کاپیغام بھی اسی وقت زندہ رہتاہے جب وہ دل سے دل تک پہنچے،اور انسان سے انسان تک منتقل ہو۔