سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ بحران کسی ایک لمحے کانتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلہ غلط فیصلوں کاحاصل ہے۔مذاکرات جاری تھے،امکانات موجودتھے، سفارتی راستے کھلے تھے،مگرطاقت کے نشے نے تدبرکی راہوں کومسدودکردیا۔یہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنگ دراصل سفارت کاری کی ناکامی کادوسرانام ہے۔جب مکالمہ ختم ہوجاتاہے توخطرناک بموں کی زبان بولنے لگتی ہے اوریہ زبان ہمیشہ خون آلودہوتی ہے۔یہاں ہمیں یہ تسلیم کرناہوگاکہ جنگ اکثرناکامیِ سیاست کااعتراف ہوتی ہے،اورجب سیاست ناکام ہوجائے تواس کے ملبے تلے انسانیت دفن ہوجاتی ہے۔
سعودی عرب پہلے ہی واضح کرچکاہے کہ اگرایران جوہری ہتھیارحاصل کرتاہے تووہ بھی اسی راستے پرچلے گا۔یہ اعلان دراصل ایک انتباہ ہے،ایساانتباہ جوپورے خطے کوایک خطرناک دوڑمیں جھونک سکتاہے۔دراصل یہ ایک خطرناک سلسلے کی ابتداہوسکتی ہے۔ اگرایک ملک یہ قدم اٹھاتاہے تودیگرممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔یہ صورتحال ایک ایسے’’ڈومینو ایفیکٹ‘‘کوجنم دے سکتی ہے جہاں ایک کے بعدایک ملک جوہری ہتھیاروں کی طرف بڑھتاجائے گا،یوں ایک چنگاری پورے جنگل کواپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور پوراخطہ ایک بارودکے ڈھیرمیں تبدیل ہوجائے گا۔
ایران کاجوہری پروگرام ہمیشہ سے عالمی توجہ کامرکزرہاہے۔اگرچہ اس نے عدم پھیلاکے معاہدے پردستخط کررکھے ہیں،مگراس کے پروگرام پرشکوک وشبہات برقرار رہے ہیں۔یہ مسئلہ دراصل ٹیکنالوجی سے زیادہ اعتمادکاہے۔عالمی سیاست میں اعتمادایک نایاب شے بن چکاہے،اورجب اعتمادختم ہوجائے توہراقدام مشکوک نظرآنے لگتاہے۔یادرکھیں کہ اعتماد وہ شے ہے جوایک بارٹوٹ جائے تو پھرآسانی سے بحال نہیں ہوتا۔
ایران کادعویٰ ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصدکیلئے ہے،مگرافزودگی کی سطح اورنگرانی کے مسائل نیاس مؤقف کوکمزورکیاہے اورعالمی طاقتیں اس پریقین کرنے کوتیارنہیں۔یہ بداعتمادی دراصل عالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتی ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ ایران کیاکہتا ہے،بلکہ یہ ہے کہ دنیااس پرکیوں یقین نہیں کرتی اوراس سوال کاجواب عالمی سیاست کی پیچیدہ نفسیات میں پوشیدہ ہے۔کیاعالمی قوانین سب کیلئے یکساں ہیں؟یاطاقتور ممالک اپنی مرضی کے مطابق ان کی تشریح کرتے ہیں؟
2018ء میں امریکاکاجوہری معاہدے سے نکل جانانہ صرف ایک یکطرفہ فیصلہ کن موڑتھابلکہ ایک ایسافیصلہ تھاجس نے عالمی اعتماد کوشدیدنقصان پہنچایا۔یہ اقدام نہ صرف ایران بلکہ دیگرممالک کیلئے بھی ایک پیغام تھاکہ معاہدے مستقل نہیں ہوتے۔اس اقدام نے نہ صرف اعتمادکوٹھیس پہنچائی بلکہ سفارت کاری کے امکانات کوبھی محدودکردیا۔یہی وہ نکتہ ہے
جہاں سے عالمی نظام کی ساکھ متاثر ہوئی،اوراس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔یہ وہ لمحہ تھاجب تاریخ نے ایک اورموقع کھودیاایک ایساموقع جوشاید جنگ کوروک سکتاتھا۔
اگرچہ ایران کے پاس جوہری ہتھیاربنانے کی تکنیکی صلاحیت موجودتھی،مگر اس نے عملی طورپراس حدکوعبورنہیں کیا۔یہ ایک اہم حقیقت ہے جسے اکثرنظراندازکردیاجاتاہے۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایران نے ایک حدتک عالمی دباؤاوراصولوں کااحترام کرتے ہوئے ایک حدتک ضبط کامظاہرہ کیا،مگرحالیہ جنگ کے بعدیہ رویہ تبدیل ہوسکتاہے اوراس تبدیلی کاقصوروارایران نہیں بلکہ امریکااور اسرائیل کوٹھہرانے کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنی جارحیت کی بنیادپرایران پرحملہ کرکے اسے اس راستہ پرگامزن کرنے کیلئے مجبورکردیاکہ وہ مستقبل میں اپنی بقاکیلئے اپناحق استعمال کرسکے۔
فوجی حملے تنصیبات کوتباہ کرسکتے ہیں،مگرعلم کو ملبے تلے دفن نہیں کیاجاسکتااورنہ ہی ذہنی صلاحیتوں کوختم کرسکتے ہیں۔ ایران کے سائنسدان اوران کی مہارت اس پروگرام کی اصل قوت ہیں۔ایران کے پاس موجودسائنسی مہارت اسے دوبارہ کھڑاہونے کی صلاحیت دیتی ہے،یہی وجہ ہے کہ محض بمباری کسی بھی جوہری پروگرام کومکمل طورپرختم نہیں کرسکتی۔ ایرانی قوم کے پاس ایسی صلاحیت موجودہے کہ وہ تاخیرکا شکارتوہوسکتے ہیں مگراسی راکھ اورملبے سے اپنی منزل کوتلاش کرکے سرخروہوسکتے ہیں۔
بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی محدودہونے سے شکوک میں اضافہ ہورہاہے۔حملوں کے بعد بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی محدودہوگئی ہے،جو ایک خطرناک پیش رفت ہے۔یہ صورتحال مزیدکشیدگی کوجنم دے سکتی ہے۔شفافیت کے بغیراعتمادممکن نہیں،اور اعتمادکے بغیرامن ایک سراب بن جاتاہے۔اورجب شفافیت ختم ہوجائے توشکوک بڑھتے ہیں،اورجب شکوک بڑھتے ہیں توتصادم ناگزیر ہوجاتاہے۔
اگرایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی دہلیزعبورکرلیتاہے تو یہ محض ایک ریاست کافیصلہ نہیں ہوگا،بلکہ پورے خطے کیلئے ایک نفسیاتی وتزویراتی زلزلہ ثابت ہوگا۔مشرقِ وسطیٰ،جو پہلے ہی فرقہ وارانہ کشیدگی،جغرافیائی رقابت اورعالمی طاقتوں کی چپقلش کا میدان بناہواہے،ایک نئی دوڑکااسیرہوسکتاہے ،ایسی دوڑجس میں ہرملک اپنے آپ کوعدم تحفظ کے اندھیرے سے نکالنے کیلئے ایٹمی روشنی کی طرف لپکے گا،چاہے وہ روشنی دراصل ایک آگ ہی کیوں نہ ہو۔اگرایران نے جوہری ہتھیارحاصل کیے تویقینادیگرممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہوجائیں گے۔یہ ایک ایساسلسلہ ہوگاجسے روکنامشکل ہوگابالکل ایسے جیسے بندٹوٹ جائے اورپانی ہرسمت بہنے لگے۔
اس دوڑکی خاص بات یہ ہوگی کہ یہ کھلے عام اعلان کے ساتھ نہیں بلکہ خاموشی،شبہ اورخفیہ منصوبہ بندی کے پردے میں آگے بڑھے گی۔ہرریاست اپنے ہمسایے کے ارادوں کا اندازہ لگاتے ہوئے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کوبڑھانے کی کوشش کرے گی۔یوں عدم اعتماد کی ایک زنجیر وجودمیں آئے گی،جس کا ہرحلقہ دوسرے سے جڑاہوگا،اورجس کاٹوٹناکسی ایک حادثے سے ممکن ہوجائے گا۔
دنیامیں پہلے ہی نوممالک(امریکا،روس،چین، فرانس،برطانیہ،پاکستان،انڈیا،اسرائیل اورشمالی کوریا)جوہری ہتھیاروں کے حامل سمجھے جاتے ہیں،اس کے باوجودمزیدممالک میں اس خواہش کابڑھناایک تشویشناک اورخطرناک رجحان ہے۔یہ اس بات کاثبوت ہے کہ عدم پھیلاؤ کانظام کمزورپڑرہاہے۔اوریہ حقیقت بذاتِ خودایک سوالیہ نشان ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں ریاستیں اس ہتھیارکواپنے دفاع کا لازمی جزوسمجھتی ہیں تودیگر ممالک کیوں نہ اسی راہ پرچلیں؟
عوامی سطح پربھی اس رجحان میں اضافہ ہورہاہے۔جنوبی کوریا،ترکی اورپولینڈجیسے ممالک میں عوامی رائے کے جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اپنے ملک کی سلامتی کیلئے جوہری صلاحیت کوضروری سمجھنے لگے ہیں۔یہ رجحان محض سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے ،خوف کاوہ سایہ جواجتماعی شعورپرچھاجاتاہے اورلوگوں کوغیر معمولی فیصلوں کی طرف مائل کرتاہے۔
یہاں ایک اہم پہلویہ بھی ہے کہ جوہری ہتھیاراب صرف عسکری طاقت کانشان نہیں رہے بلکہ قومی وقاراورخودمختاری کی علامت بن چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کی خواہش میں اضافہ ایک فطری مگرخطرناک عمل بن چکا ہے۔جب بڑی طاقتیں خوداپنے ذخائربڑھارہی ہوں تووہ دوسروں کوکیسے روک سکتی ہیں؟یہ ایک واضح تضادہے۔چین اورفرانس جیسے ممالک کی جانب سے اپنے جوہری ذخائر میں اضافہ اس رجحان کومزیدتقویت اورایک واضح پیغام دیتاہے کہ جب بڑے ممالک خوداس دوڑمیں شامل ہوں توچھوٹے ممالک کو کیسے روکاجاسکتاہے؟عالمی طاقتیں خودان اصولوں پرعمل نہیں کرتیں جن کی وہ دوسروں کو تلقین کرتی ہیں۔یہ دوہرامعیارعالمی نظام کی ساکھ کومجروح کرتاہے۔
چین کی تیزرفتارعسکری ترقی اورفرانس کااپنے جوہری پروگرام کووسعت دینے کاارادہ دراصل اس بات کاثبوت ہے کہ طاقت کی سیاست میں اخلاقیات کی گنجائش محدودہوتی جارہی ہے۔جب بڑے ممالک خوداس دوڑمیں شامل ہوں توچھوٹے ممالک کیلئے یہ دلیل مزید مضبوط ہوجاتی ہے کہ اگرانہیں زندہ رہناہے توانہیں بھی اسی راستے پرچلناہوگا۔یہ صورتحال عالمی نظام کیلئے ایک سنگین چیلنج ہے، کیونکہ یہ عدم پھیلا ؤکے اصول کوکمزوراورایک نئے اسلحہ جاتی توازن کوجنم دیتی ہے۔(جاری ہے)