سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
انسانی تاریخ کے طویل وپیچیدہ سفرمیں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جومحض واقعات نہیں ہوتے بلکہ تقدیرکے دھارے کوموڑدینے والے سنگِ میل بن جاتے ہیں۔یہ وہ ساعتیں ہوتی ہیں جب زمانہ خوداپنے آپ سے سوال کرتاہے،جب تہذیب اپنے آئینے میں اپناچہرہ دیکھنے پر مجبورہوتی ہے،اورجب انسان کویہ طے کرناپڑتاہے کہ وہ روشنی کاوارث بنے گایاتاریکی کااسیر۔آج کی دنیابھی ایک ایسے ہی دہانے پر کھڑی ہے جہاں بارودکی بوفضامیں رچی ہوئی ہے،مگرانسانیت کی سانس اب بھی امیدکے سہارے چل رہی ہے۔یہ مضمون محض الفاظ کامجموعہ نہیں،بلکہ ایک فکری پکارہے،ایک ایسی صداجوتاریخ کے اوراق سے ابھرکر حال کے ایوانوں میں گونج رہی ہے۔یہ اس عہد کانوحہ بھی ہے اوراس کی اصلاح کاامکان بھی۔یہاں سیاست کی بے رحمی بھی ہے اورانسانیت کی مظلومیت بھی،یہاں طاقت کاغروربھی ہے اورامن کی خاموش التجابھی۔
قاری جب ان سطورمیں داخل ہوگاتووہ خو کومحض ایک مبصرنہیں بلکہ اس داستان کاحصہ محسوس کرے گاایسی داستان جس میں ہر انسان کی قسمت جڑی ہوئی ہے،ہردل کی دھڑکن شامل ہے،اورہرآنے والی نسل کامستقبل پوشیدہ ہے۔یہ تحریر آپ سے صرف پڑھنے کا تقاضانہیں کرتی،بلکہ سوچنے،محسوس کرنے اورفیصلہ کرنے کی دعوت دیتی ہے کیونکہ یہ وہ لمحہ ہے جب خاموشی بھی جرم بن سکتی ہے،اورایک آوازتاریخ کادھارابدل سکتی ہے۔
عصرِنوکی سیاست اپنے باطن میں ایک عجیب اضطراب لیے ہوئے ہے گویاتہذیب کے چہرے پرمسکراہٹ ہے مگرآنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں لرزرہی ہیں۔طاقت کی اس بساط پرجہاں قومیں اپنے مفادات کی شطرنج کھیل رہی ہیں،وہاں اصول،اخلاق اورعالمی معاہدے اکثرمحض کاغذی حوالہ بن کررہ جاتے ہیں۔گویا ایک ایساشطرنج خانہ ہے جہاں مہرے انسان ہیں اورچالیں تقدیروں کوبدل دیتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ قوت واقتدارکی اس کشمکش میں عقل کی صدااکثرتلواروں کی جھنکار میں دب جاتی ہے۔
امریکااوراسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ جنگ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیایسی کڑی جس کے حلقے صرف مشرقِ وسطی ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکے گردتنگ ہوتے جا رہے ہیں۔امریکااوراسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت اسی عالمی کشمکش کاایک ایساباب ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ پوری دنیاکے فکری،سیاسی اورعسکری توازن کوہلا کررکھ دیاہے۔یہ معاملہ محض ایک جنگ نہیں،بلکہ ایک ایساسنگِ میل ہے جہاں سے عالمی تاریخ ایک نئے رخ پرمڑسکتی ہے۔
زیرِ نظر گزارشات میں ہم اس قضیے کومحض واقعاتی ترتیب کے طورپرنہیں بلکہ ایک فکری وتہذیبی تناظرمیں دیکھنے کی کوشش کریں گے،جہاں سیاست نہ صرف اپنی معنویت کے ساتھ اورتاریخ اپنی عبرت کے ساتھ جلوہ گرہوبلکہ اس اندازمیں کہ فکرکی گہرائی، زبان کی لطافت اورتاریخ کی سنجیدگی ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوجائیں جیسے دریاسمندرمیں جاگرتا ہے
کیایہ جنگ جوہری دوڑکاپیش خیمہ بن سکتی ہے؟یہ سوال محض ایک سیاسی تجزیہ یاسوال نہیں بلکہ انسانی بقاکے باب میں ایک بنیادی استفسارمیں سے ایک ہے۔جب طاقت کے ایوانوں میں یہ تصورجڑپکڑلے کہ امن کی ضمانت اخلاقی اصولوں یاسفارتی معاہدوں میں نہیں بلکہ تباہی کے ہتھیاروں میں مضمرہے،توگویاتہذیب کاچراغ ہواکے رحم وکرم پرچھوڑ دیاجاتاہے۔جب اقوام اپنے تحفظ کیلئے روایتی سفارت کاری اور اجتماعی سلامتی کے نظام پر اعتماد کھو بیٹھیں، تو وہ لازما ایسے ذرائع کی طرف مائل ہوتی ہیں جو فوری اور قطعی تحفظ کا تاثر دیتے ہوں۔
جوہری ہتھیاراسی’’حتمی تحفظ‘‘کااستعارہ بن چکے ہیں۔امریکااوراسرائیل کاایران کے خلاف جارحیت بظاہر ایک روک تھام کی پالیسی کا بہانہ تھا،مگراس کے مضمرات اس کے برعکس ہوسکتے ہیں۔یہ اقدام دراصل دنیاکے دیگرممالک کیلئے ایک خاموش پیغام ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت نہیں توآپ غیرمحفوظ ہیں۔یہ سوچ ایک ایسی دوڑکوجنم دے سکتی ہے جس میں ہرملک خودکوایٹمی قوت بنانے کی کوشش کرے گا،اوریوں دنیاایک بارپھرسردجنگ کے سائے میں داخل ہوسکتی ہے مگراس بارزیادہ غیریقینی،زیادہ خطرناک اورزیادہ بے قابواندازمیں۔
امریکااوراسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت اک بارپھردنیاکودھوکہ دینے کے مترادف تھی اوراس کے باطن میں ایک ایساپیغام پوشیدہ ہے جودنیا کے کمزوراورمتوسط ممالک کیلئے نہایت خطرناک ہے’’اپنے تحفظ کیلئے خودکومسلح کرو،خواہ اس کی قیمت انسانیت ہی کیوں نہ ہو‘‘۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے جوہری دوڑکاآغازہوتاہے ،خوف کے بطن سے جنم لینے والی ایک ایسی دوڑ،جس کی منزل تباہی کے سواکچھ نہیں۔
ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ جنگ اپنی بازگشت میں مسلسل وسعت اختیارکرگئی۔یہ بازگشت صرف بارودکی گونج نہیں بلکہ خوف،عدم اعتماداورشکوک کی وہ فضابن گئی جس نے عالمی سیاست کواپنے حصار میں لے کرایٹمی خطرات سے دوچارکر دیا۔ایک ماہ سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجوداس جنگ کے اثرات ابھی تک پوری طرح واضح نہیں ہوئے،مگر افق پرابھرنے والے سائے اب بھی کسی بڑے طوفان کی خبردیتے ہیں۔جوہری عدم پھیلاؤکے ماہرین اس خدشے کااظہارکررہے ہیں کہ ایران ہی نہیں بلکہ دیگرممالک بھی اس نتیجے پرپہنچ سکتے ہیں کہ روایتی ہتھیاریاسفارت کاری اب ناکافی ہوچکی ہے۔جوہری عدم پھیلاؤکے ماہرین اس بات کی بھی نشاندہی کررہے ہیں کہ یہ تنازع دیگرممالک کیلئے ایک سبق بن سکتاہے اوروہ یہ کہ اگرآپ کے پاس ایٹم بم نہیں توآپ کی خودمختاری خطرے میں ہے۔یہ سوچ عالمی نظام کیلئے نہایت مہلک ہے،کیونکہ یہ اس اصول کوچیلنج کرتی ہے جس پرگزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی امن کی عمارت کھڑی کی گئی تھی اورآج ہم اس دورمیں پہنچ گئے ہیں جہاں عالمی نظام کی بنیادیں لرزتی محسوس ہوتی ہیں۔جب ریاستیں یہ سوچنے لگیں کہ انصاف کے بجائے طاقت ہی بقاکی ضامن ہے،توپھر قانونِ جنگل اپنی پوری سفاکی کے ساتھ نمودارہوتاہے۔
امریکاطویل عرصے سے اپنے اتحادیوں کیلئے ایک محافظ کے طورپرپیش کیاجاتارہاہے۔مگرحالیہ واقعات نے اس تصورمیں دراڑڈال دی ہے۔جب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ایران کے جوابی حملوں کی زدمیں آئے،تویہ سوال شدت اختیارکرگیاکہ کیاامریکااپنے اتحادیوں کی سلامتی کاواقعی ضامن ہے؟متحدہ عرب امارات سے لے کرسعودی عرب تک،کئی ممالک ایران کے جوابی حملوں کی زدمیں آچکے ہیں۔
اس صورتحال نے ایک نئی فکری تبدیلی اورانقلاب کوجنم دے دیاہے ،ایساانقلاب جس میں ریاستیں اپنی سلامتی کیلئے بیرونی طاقتوں پرانحصار ترک کرکے خودانحصاری کی طرف مائل ہوں۔وہ تبدیلی جس میں ریاستیں یہ سمجھنے لگیں کہ دوسروں کے سائے میں کھڑا ہونادراصل اپنی کمزوری کااعتراف ہے۔چنانچہ مقامی سطح پرجوہری صلاحیت کاحصول ایک ضرورت کے طورپرپیش کیاجاسکتاہے، نہ کہ محض ایک’’انتخابــ‘‘کے طورپراوراس خودانحصاری کاسب سے نمایاں مظہرجوہری صلاحیت ہوسکتاہے۔
یہ ایک عجیب ستم ظریقی اورالمیہ ہے کہ جس جنگ کامقصد ایران کوایٹم بم بنانے سے روکناتھا،وہی جنگ ایران کواس سمت میں دھکیل سکتی ہے۔سیاسیات کایہ المیہ نیانہیں؛تاریخ گواہ ہے کہ اکثرطاقتوراقوام اپنے اقدامات سے وہی نتائج پیداکرتی ہیں جن سے بچنے کادعویٰ کرتی ہیں،اورتاریخ میں ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں جہاں طاقت کے استعمال نے مسائل کوحل کرنے کی بجائے مزیدپیچیدہ بنادیاہو۔ ایران کی قیادت اب اس سوال سے دوچارہے کہ آیاوہ اپنی بقاکیلئے وہی راستہ اختیارکرے جسے وہ اب تک ردکرتی آئی تھی۔ اگر ایساہوتا ہے تویہ عالمی سیاست کی ایک بڑی ناکامی ہوگی۔ایران کی قیادت اب اس سوال سے دوچارہے کہ آیامستقبل میں اپنی بقاکیلئے اسے وہی راستہ اختیارکرناچاہیے جس سے اسے روکاجارہا تھا۔(جاری ہے)