ایک شخص کے خلاف 100 ایف آئی آر درج ہوجاتی ہیں،ایسی حرکات پر ہی تو لوگ ہنستے ہیں‘ اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں
جمشید دستی پر انفیکشن پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیا جمشید دستی بیماریوں کو پھیلاتے ہیں:جسٹس عقیل عباسی کے سماعت کے دوران ریمارکس
اسلام آباد (آئی این پی)سپریم کورٹ کے جسٹس عقیل عباسی نے جمشید دستی ضمانت کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں تماشا بنا ہوا ہے ۔ ایک شخص کے خلاف مختلف صوبوں میں 100 سے زائد ایف آئی آرز درج ہوجاتی ہیں، اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں۔جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمشید دستی ضمانت کیس کی سماعت کی، عدالت نے جمشید دستی کی ضمانت میں 4 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے وفاق سمیت تمام صوبوں سے درخواستگزار کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔سپریم کورٹ کے جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اتنے مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں کہ ساری زندگی وہ شخص بھگتتا رہے۔ ایسی حرکات پر ہی تو لوگ ہنستے ہیں۔ اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ یہاں بھینس چوری کے بھی تو مقدمات درج ہوتے ہیں، ہماری عدالتیں دنیا میں 136ویں نمبر پر ہیں، جمشید دستی پر انفیکشن پھیلانے کا بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، کیا جمشید دستی بیماریوں کو پھیلاتے ہیں، اپنے نظام کا ہم خود مذاق بناتے ہیں۔جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ جمشید دستی ممبر پارلیمنٹ رہے ہمارے لیے قابل احترام ہیں، جب اقتدار میں ہوتے ہیں مخالف کی گرفتاری پر خوش ہوتے ہیں، اپوزیشن میں آکر عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں۔جمشید دستی نے کہا کہ میں جنوبی پنجاب سے ہوں عوام کیلئے جہاد کیا آواز اٹھائی، مجھے میری جماعت نے بھی شوکاز نوٹس جاری کیے، جس پر جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ آپ کیخلاف مقدمات دیکھ کر بھی لگتا ہے جہادی ہیں۔