امریکی وزارتِ خارجہ کا ریاض میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے ‘اہلخانہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین سے بھی سفارتی عملے کو نکل جانے کا حکم
فرانسیسی صدر کا خلیجی دورے کے دوران ریاض کا اچانک دورہ ‘ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات‘فوجی مدد کی پیشکش کا مقصدسعودی سرزمین کا دفاع ہے:مصری صدر
ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کہا ہے مشرقی شہر دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوگئے۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران تیل سے مالا مال مشرقی علاقے میں پانچ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔سعودی وزارتِ توانائی نے الگ بیان میں بتایا کہ مشرقی صوبے میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو روکنے کی کارروائی کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے، ہلاک ہونے والوں کا تعلق فلپائن اور نیپال سے تھا، جبکہ زخمیوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔ادھر امریکی وزارتِ خارجہ نے ریاض میں اپنے سفارت خانے کے تمام غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ نے متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں اپنے سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو بھی وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں نے اپنے خلیجی دورے کے دوران ریاض کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، ایلیزیے محل کے مطابق اس ملاقات کا مقصد سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں فرانس کی یکجہتی کا اظہار اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانا تھا۔ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی مدد کی پیشکش کا مقصد صرف سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہے، اس میں یمن پر کوئی حملہ شامل نہیں، انہوں نے کہا کہ مصر کسی بھی عرب ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے اگر اس سے درخواست کی جائے۔