پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان

پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے پیٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 اگر اس مطالبے پر عمل کیا گیا تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 45 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔

آئی ایم ایف کی شرائط
آئی ایم ایف نے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ 1-2 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے 18 فیصد کی شرح مقرر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ مطالبہ ملک کے محصولات میں اضافہ اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

خوراک پر ٹیکس کا مطالبہ
آئی ایم ایف نے خوراک جیسی بنیادی اشیاء پر بھی 15 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ تاہم، وفاقی حکومت نے اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس معاملے پر غور جاری ہے۔

حکومت کا مؤقف
حکومت نے فی الحال آئی ایم ایف کے اس مطالبے پر عمل درآمد سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومت پیٹرولیم لیوی میں 45 روپے فی لیٹر سے 60 روپے فی لیٹر تک کمی کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو۔

معاشی اثرات
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اشیاء خورونوش کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔

آئی ایم ایف کی منظوری کی شرط
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اقدام پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا بشرطیکہ یہ محصولاتی اہداف کو پورا کرے اور معیشت کے استحکام کے لیے مددگار ثابت ہو۔یہ اقدامات آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات اور پاکستان کے معاشی بحران کو حل کرنے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔