امجد علی
ملک میں اگر کسی عام شہری سے کسی قانون کی معمولی خلاف ورزی سرزد ہو جائے تو ریاستی رٹ، قانون کی بالادستی اور نظم و ضبط کے بڑے بڑے دعوے سامنے آ جاتے ہیں۔ پارٹی شوشل میڈیا سیلز ہر طرف چھا جاتے ہیں لیکن جب کھلے عام عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہو، حکومتی نرخ نامے ہوا میں اڑائے جا رہے ہوں اور سرکاری احکامات کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہوں تو یہی ریاستی رٹ نہ جانے کہاں چلی جاتی ہے۔ایل پی جی کی سرکاری قیمت اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان موجود خوفناک فرق (دگنا ریٹ) اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخ کچھ اور ہوں اور عوام سے وصولی اس سے کہیں زیادہ کی جا رہی ہو تو یہ محض مہنگائی کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون کے نفاذ، ریاستی عملداری اور عوامی حقوق کا تکلیف دہ سوال بن جاتا ہے۔
اصولاً ایسی صورتحال میں سب سے پہلے متعلقہ ریگولیٹری ادارے کو خود حرکت میں آنا چاہیے تھا۔ اگر کسی شعبے کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری ایک اتھارٹی کے سپرد ہے تو اس کی بنیادی ذمہ داری یہی بنتی ہے کہ وہ قیمتوں، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لے۔ ایسے واضح عوامی مسئلے پر ازخود کارروائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جب پورا ملک ایک مسئلے پر بات کر رہا ہو، سوشل میڈیا پر احتجاج جاری ہو اور عوام فریاد کر رہے ہوں تو متعلقہ اداروں کی خاموشی سمجھ سے بالاتر محسوس ہوتی ہے۔
مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ عوام جب پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ملتا۔ اور اگر احتجاج کی شدت بڑھ جائے یا زبان تلخ ہو جائے تو تمام تر ریاستی طاقت مافیاز کی بجائے انہی شہریوں کے خلاف متحرک ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی پہلے کیوں نہیں ہوتی؟ ریاست کی رٹ صرف کمزور اور بے بس شہریوں کو دکھانے کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اصل مقصد مفادات کے پیچھے بھاگنے والے طاقتور گروہوں اور قانون شکن عناصر کو قانون کے تابع کرنا ہوتا ہے۔
آج پوری شوشل میڈیا وال سلنڈر مافیاز کے خلاف احتجاجی پوسٹوں سے سرخ ہو چکی ہے۔ مگر کہیں سنوائی نہیں ہو پا رہی۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر اتنے ادارے، محکمے، فورسز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کس مقصد کے لیے قائم کی گئی ہیں؟ عوام کے ٹیکسوں سے اربوں روپے کے بجٹ، بھاری تنخواہیں، مراعات اور سرکاری سہولیات کس خدمت کے عوض دی جاتی ہیں؟ اگر بازار میں سرکاری نرخ نافذ نہیں ہو سکتے، اگر منافع خوروں کو قانون کا خوف نہیں اور اگر عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا تو پھر ان اداروں کی کارکردگی کا پیمانہ کیا ہے؟ تو کیا یہ ادارے عوام کی بجائے مافیاز کی مدد اور تحفظ کے لیے ہیں۔
حکمران جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کو بھی اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ حکومت صرف پالیسیوں کے اعلانات سے نہیں چلتی بلکہ ان کے عملی نتائج سے جانی جاتی ہے۔ اگر عوام کی زندگی مسلسل مشکل سے مشکل تر ہو رہی ہو، اگر روزمرہ استعمال کی اشیاء حکومتی نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہوں اور اگر شہری خود کو بے یار و مددگار محسوس کریں تو اس کی سیاسی ذمہ داری بھی بالآخر حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔
عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب عوام کو محسوس ہو کہ ان کے مسائل سنے جا رہے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا رہا ہے۔ بلکہ ایسی صورت حکومت کے لیے موسٹ وانٹڈ ہوتی ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف بولنے والا نہ ہو۔ گڈ گورننس ہو تو ہر قسم کا احتجاج بھی خود ختم ہو جاتا ہے لیکن جب شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہو تو عوام اور قیادت کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ یہ خلیج کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نیک شگون نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت، متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور انتظامی مشینری اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیں۔ سرکاری نرخ ناموں پر حقیقی عملدرآمد یقینی بنایا جائے، منافع خوروں اور قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے (خواہ وہ مافیا ہو یا ادارے میں چھپا انہی کا ملازم۔۔۔کالی بھیڑ) اور عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے، نہ کہ ان کے استحصال سے فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ۔
ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔ عوام کا اعتماد، ان کا تحفظ اور ان کا معاشی سکون ہی کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اگر عوام کو کھلے عام لوٹنے والوں کے لیے رعایت اور قانون کی پاسداری کرنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کی جائیں تو یہ صرف عوام کا نہیں بلکہ ریاست کا بھی ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ عوام ہیں تو ریاست ہے، ریاست ہے تو حکومت ہے۔ اگر عوام کا اعتماد مجروح ہو جائے تو اقتدار کے ایوانوں کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو سانس لینے کا حق دیا جائے۔ سروسز اداروں کی ریٹس کو پانچ سالہ پالیسی کے تحت لاگو کر کے بے یقینی کی کیفیت کو بھی ختم کیا جائے، سرکاری نرخوں کا نفاذ یقینی بنایا جائے اور قانون کی بالادستی کو محض کمزور طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے ہر قانون مخالف، بشمول طاقتور مافیا پر بھی یکساں لاگو کیا جائے۔ قانون کی یکساں عملداری ہی دیرپا امن کی
ضامن ہے