انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے متعارف کرائے گئے نئے "سپر سیریز" فارمیٹ کا دفاع شروع کر دیا ہے، جس پر کرکٹ حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
آئی سی سی نے آئندہ ورلڈ کپ کے کوالیفکیشن مرحلے کے لیے سپر سیریز فارمیٹ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت کم رینکنگ رکھنے والی ٹیموں کے لیے ورلڈ کپ تک رسائی کا راستہ مزید مشکل ہو جائے گا۔نئے فارمیٹ کے مطابق تین کم ترین رینکنگ والی ٹیمیں سپر سیریز مرحلے میں حصہ لیں گی، جہاں مقابلوں کا انعقاد محدود ہوگا۔ اس مرحلے میں شریک ٹیموں میں سے دو ٹیمیں صرف دو میچز کھیلنے کے بعد ہی ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گی۔ذرائع کے مطابق آئی سی سی کے ورکنگ گروپ نے 2019 اور 2023 کے ورلڈ کپ کی طرح 2027 کا ایونٹ بھی صرف 10 ٹیموں تک محدود رکھنے کے آپشن پر غور کیا تھا۔ اس تجویز کو آئی سی سی کے بعض اراکین کی حمایت بھی حاصل تھی۔تاہم حتمی طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پہلے سے منظور شدہ 14 ٹیموں کے فارمیٹ کو برقرار رکھا جائے گا، البتہ کوالیفکیشن مرحلے میں معمولی تبدیلیاں کرتے ہوئے سپر سیریز کا نیا نظام شامل کیا جائے گا۔
آئی سی سی حکام کے مطابق نئے فارمیٹ کا مقصد مقابلے کی سختی بڑھانا، ٹیموں کے معیار کو بہتر بنانا اور ورلڈ کپ میں زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہے۔دوسری جانب کرکٹ ماہرین اور بعض سابق کھلاڑیوں نے اس فارمیٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور رینکنگ والی ٹیموں کو محدود مواقع ملنے سے ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے عالمی سطح پر پہنچنے کا راستہ مزید دشوار ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ 2027 ون ڈے ورلڈ کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر کریں گے، جبکہ آئی سی سی ایونٹ کے فارمیٹ میں توازن برقرار رکھنے کے لیے مسلسل تبدیلیاں کر رہی ہے۔