وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگرد صوبے کی ایک انچ زمین پر بھی دیرپا قبضہ نہیں کر سکتے، اور بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے صوبائی ایکشن پلان تشکیل دیا جا چکا ہے۔
انہوں نے یہ بات کوئٹہ میں منعقدہ 16ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ماضی کی حقیقت کو جانیں، کیونکہ صوبے سے متعلق دیگر علاقوں میں پایا جانے والا تصور حقیقت کے منافی ہے۔
شورش کی اصل وجہ غیر متوازن ترقی نہیں:
سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر متوازن ترقی یا بیروزگاری شورش کی اصل وجہ نہیں بلکہ کچھ لوگ ریاست سے نالاں ہو کر گمراہ ہوئے۔ ہم ایسے نوجوانوں کے شکوے سن کر انہیں گلے لگائیں گے، مگر ریاست مخالف کارروائیاں کرنے والوں سے آئین سے باہر بات ممکن نہیں۔
گرے زونز میں آپریشن، دشمن کی شناخت مشکل:
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اس وقت گرے زونز میں آپریٹ کر رہی ہیں، جہاں دوست اور دشمن کی پہچان مشکل ہو چکی ہے، تاہم واضح کر دیا کہ دہشتگرد بلوچستان کی سرزمین پر مستقل قبضہ حاصل نہیں کر سکتے۔
گمشدہ افراد، تعلیم اور اصلاحات:
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ لاپتہ افراد سے متعلق جامع قانون سازی کی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے باہر نکالنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔گورننس اور سروس ڈلیوری نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔صحت اور تعلیم کے شعبے میں 99 فیصد بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔بلوچ طلباء کو قومی اور بین الاقوامی اسکالرشپس دی جا رہی ہیں تاکہ وہ مثبت انداز میں قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام ریاستی ادارے یکجہتی سے کام کر رہے ہیں۔