امریکا: عدالت نے چڑیا گھر کے 5 ہاتھیوں کی آزادی روک دی

امریکا: عدالت نے چڑیا گھر کے 5 ہاتھیوں کی آزادی روک دی

امریکی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ جانور انسان نہیں ہیں، اس لیے ان پر غیر قانونی قید کے قوانین لاگو نہیں ہوتے، اور چڑیا گھر کے 5 ہاتھیوں کو آزاد نہیں کیا جا سکتا۔

کیس کی تفصیلات
درخواست گزار: جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "نان ہیومن رائٹس پروجیکٹ" (NHRP) نے درخواست دی تھی کہ عمر رسیدہ ہاتھیوں کو کولوراڈو کے شیئن ماؤنٹین چڑیا گھر سے آزاد کر کے کسی پناہ گاہ میں منتقل کیا جائے۔
تنظیم کا مؤقف: این آر پی کا کہنا تھا کہ ہاتھیوں کی موجودہ حالت اور قید غیر اخلاقی ہے اور انہیں بہتر ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔
عدالتی فیصلہ
قانونی دلیل: کولوراڈو کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ "ہیبیس کورپس" (Habeas Corpus) کا قانون صرف انسانوں پر لاگو ہوتا ہے۔
فیصلہ: عدالت نے اس بات کو واضح کیا کہ جانوروں کو انسانی قوانین کے تحت غیر قانونی قید کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔
قانونی پس منظر
ہیبیس کورپس: یہ قانون انسانوں کو غیر قانونی قید سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور عدالتوں کو ان کے حق میں فیصلہ دینے کا اختیار دیتا ہے۔
جانوروں پر اطلاق: عدالت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون جانوروں پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ قانونی طور پر انسانوں کے مساوی حقوق کے حامل نہیں ہیں۔
ردعمل
تنقید: جانوروں کے حقوق کے حامیوں نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جانوروں کے ساتھ انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
چڑیا گھر کا موقف: چڑیا گھر انتظامیہ نے عدالت کے فیصلے کو سراہا اور کہا کہ ہاتھیوں کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔یہ فیصلہ امریکا میں جانوروں کے قانونی حقوق کے حوالے سے جاری بحث کا حصہ بن گیا ہے۔