جوڈیشل کمیشن نہیں تو مذاکرات کا چوتھادوربھی نہیں :پی ٹی آئی کا اعلان

بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے کمیشن میں پیشرفت نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات کا چوتھا دور نہ کیا جائے ، عمر ایوب 
چوری شدہ مینڈیٹ کی حکومت قابل قبول نہیں ،بانی سے ملاقات کامعاملہ لٹکایا جارہا ہے ،رہنمائوں کی میڈیا سے گفتگو 
اسلام آباد (آن لائن) پی ٹی آئی نے ایک بار پھر جوڈیشل کمیشن نہ بننے کی صورت میںمذاکرات کی چوتھی نشست نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوے کہا ہے کہ تیسرا مذاکراتی دور ختم ہو چکا مگر ہماری بانی سے ملاقات نہیں کروائی گئی ۔ چوری شدہ مینڈیٹ کی حکومت ہر گز قابل قبول نہیں ہے ۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ  پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے بہترین احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تیسرا مذاکراتی دور مکمل ہوگیا ، حکومت نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائیں گے ۔ ہم بار بار پوچھ چکے ہیں مگر حکومت ملاقات کرانے میں ناکام ہے ۔ انہوں نے کہا کمیشن بننے میں پیشرفت نہیں ہوتی تو مذاکرات کا چوتھا دور بھی نہیں ہو گا ۔ یہی بانی پی ٹی آئی کی ہدایت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس ایک بھونڈا کیس ہے ۔ اس وقت جوڈیشری پر دباؤ ہے اسی دبائو کی وجہ سے کٹھ پتلی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ۔ انہوں نے کہا ڈیجیٹل پاکستان بل پاس ہونے کے بعد پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کے حق میں بات کرنے والوں کو اٹھا لیا جائے گا ۔اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا دنیا کی تاریخ میں قانون سازی کا کم ترین وقت پاکستان میں ہے ۔ 88 دنوں میں دس منٹ بھی قانون سازی پر بات نہیں ہوئی ،  جتنے بھی قانون پاس ہوئے دس منٹ کے اندر پاس کرلیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تین دور ہو چکے ۔ تاہم چوتھے دور کا انحصار جوڈیشل کمیشن بنانے میں پیشرفت پر ہے۔   انہوں نے کہا کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ بھی لٹکایا جا رہا ہے ۔ عامر ڈوگر نے کہا بے گناہ کارکنوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے، 3 ہزار سے زائد کارکنان قید ہیں ان کے ساتھ جیل مینوئل کے مطابق سلوک کیا جائے۔ علی محمد خان  نے مطالبہ کیا جس کاغذ کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کو سزا دی گئی وہ حکومت عوام کے سامنے لائے ۔ بانی پی ٹی آئی کو اس جج کی عدالت سے سزا ملی جسے سپریم کورٹ نے 20 سال پہلے جوڈیشل فیصلے کرنے سے روک دیا تھا ۔