پاکستان کی 97 فیصد آبادی سرکاری طورپررجسٹرڈ :نادرا

تقریباً 1 اعشاریہ7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ ہی نہیں بنوایا
پہلی بار رجسٹریشن کیلئے متعارف مخصوص سہولت 31 دسمبر تک مو ثر رہیگی 
کراچی(خصوصی رپورٹ)نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)نے جاری سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے،قومی شناختی نظام میں تقریبا 98ً اعشاریہ3 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریباً 1اعشاریہ7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا،ان شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے،اس کی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سال 2025 ء￿ کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اصلاحی اقدامات تجویز کئے۔اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کیلئے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی جو 31 دسمبر 2026 تک مو ثر رہے گی۔ اس طریق کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جا سکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔