ڈاکٹر جاوید
میٹرک کے بعد بچوں اور والدین کی پہلی چوائس اور خواہش پری میڈیکل میں داخلہ لینا ہوتی ہے۔دو سال کالج اور اکیڈمیوں میں دھکے کھانے کے بعد انٹری ٹیسٹ کا پہاڑ عبور کرنا آسان کام بالکل بھی نہیں ہے۔رواں سال پنجاب کے 12 سرکاری اور 33 پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی لگ بھگ 8000 سیٹوں کے لئے 50 ہزار 461 امیدواروں نے پنجاب کے 12 شہروں کے 27 مراکز میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی سپر ویڑن میں انٹری ٹیسٹ دیا۔آخری اطلاعات آنے تک پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجوں کا میرٹ 94 % تک رہا ، اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں 78.8 % تک رہنے کی شنید ہے۔طلباء کے مطابق گزشہ سال کے انٹری ٹیسٹ سے اس برس کا انٹری ٹیسٹ خاصا مشکل تھا لہذا انٹری ٹیسٹ میں جتنے مارکس درکار تھے ، اتنے نہ آسکے۔اس سال صرف 800 بچہ اتنے مارکس کے قریب پہنچ سکا جتنے نمبر گزشتہ سال کے 3200 بچوں نے حاصل کر رکھے ہیں۔یہ یو ایچ ایس کا رول ہے کہ ایک بچے کا انٹری ٹیسٹ 2 سال تک کے لئے کارآمد ہو گا چنانچہ پچھلے سال کے 3200 بچوں کے مارکس 94 % تک ہیں جو اس سال کا آخری میرٹ بنتا ہے۔
کچھ بچوں نے اس ناانصافی پر ہائیکورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا مگر ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجز میں ٹیوشن اور ہوسٹل فیس چند لاکھ روپے میں ہے اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ایک سال کی فیس 25 سے 28 لاکھ روپے تک بنتی ہے۔
فارن سٹوڈنٹس کے لئے یہ فیس زیادہ ہو سکتی ہے۔آج سے 32 سال پہلے جب میرا داخلہ قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں ہوا۔
اس وقت ہماری کالج کی سالانہ ٹیوشن فیس 5600 روپے اور ہوسٹل فیس 3600 روپے تھی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے ، ایک بار کالج انتظامیہ نے ہوسٹل فیس میں معمولی اضافہ کیا ، اس پر طلبا ، طالبات نے بھرپور صدائے احتجاج بلند کی ، نتیجہ میں فیس بڑھانے کے اقدام کو روکنا پڑا۔
ایم بی بی ایس کے پہلے 2 سال بڑے مشکل تھے ، اگر کوء طالب علم 4 چانسز میں امتحان نہ پاس کر سکتا ، اسکا نام کالج سے ہمیشہ کے لئے خارج کر دیا جاتا تھا۔اس دوران ہمارے دو سینئرز نے ایم بی بی ایس کی ٹینشن سے بھرپور سخت پڑھائی کیوجہ سے خودکشی کر لی تھی۔
وہ دو واقعات بھلائے نہیں جا سکتے ہیں۔ایم بی بی ایس فائنل ائیر کا امتحان پاس کرنے کے بعد 6 ماہ میڈیسن ، 6 ماہ سرجری کی عمومی طور پر ہاؤس جاب کرنا ہوتی تھی ، کچھ لوگ پیڈز ، سی سی یو میں بھی جاب کرتے تھے۔آجکل شاید 3 ، 3 ماہ کی مختلف سپیشیلٹیئز میں ہاؤس جاب کرائی جاتی ہے۔ہمارے زمانے میں پروفیسر صاحبان صبح شام وارڈ میں راؤنڈ کرتے تھے۔ایمرجنسی میں 32 ، 32 گھنٹے ڈیوٹی کرنا اور اس ڈیوٹی میں ایمرجنسی آپریشن تھیٹر میں 2 ، 2 گھنٹوں پر محیط کھڑے ہو کر سرجری کرنا ایک معمول تھا۔اس دور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نام کی کوء چیز نہ تھی البتہ میڈیکل کالجوں میں ایم ایس ایف ، اسلامی جمعیت طلباء ، انجمن طلباء اسلام اور آء ایس او فعال تھی۔
کالج اور اسپتالوں میں اچھا ماحول ہوتا تھا۔کالج کی لائیبریری ایف سی پی ایس پارٹ ون کی تیاری کے لئے بھری ہوتی تھی۔
اکا دکا ڈاکٹر یو ایس ایم ایلی اور یو کے امتحان کی تیاری میں مشغول نظر آتے تھے۔اس وقت ایف سی پی ایس پارٹ ون کے بعد 3 سال کی پارٹ ٹو کی ٹریننگ اور پھر امتحان پاس کرنے پر باآسانی نوکری مل جاتی تھی۔آجکل حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ایف سی پی ایس پارٹ ٹو کی تربیت 5 سال پر چلی گئی ہے۔امتحان پاس کرنے پر نوکری کے لالے پڑ جاتے ہیں۔بیچارے ڈاکٹروں کے لئے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد میڈیکل آفیسر کی بھی جاب نہیں ہے۔پرائیویٹ اسپتالوں میں ایم او 50 ہزار سے 70 ہزار کی تنخواہ پر نوکری کر رہے ہیں۔اللہ بھلا کرے!
ینگ ، ایکٹو ، انرجیٹک ، دبنگ وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر کا جن کا اوڑنا بچھونا مخلوق کی خدمت سے عبارت ہے ، آپ واحد منسٹر ہیں جو اپنے ڈاکٹروں ، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی بیک پر کھڑے ہوتے ہیں۔خواجہ عمران کی ایک خوبی جو انکو باقی وزراء میں ممتاز کرتی ہے۔آپ اپنے عملے پر بے جا تنقید ، بے عزتی پروگرام کو برداشت نہیں کرتے ہیں بلکہ کام کرنے والوں کے اچھے کام کی تعریف کرنا ، شاباشی دینا ، سر آنکھوں پر بٹھانا ، ان کو سپورٹ کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔خواجہ عمران نذیر کا پی ایم ڈی سی اور اعلی فورمز پر ڈاکٹروں کو پرائیویٹ اسپتالوں میں کم تنخواہ دینے پر آواز اٹھانے میں کوء کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔میرا نہیں خیال ، آج تک کسی وزیر نے اس طرح ڈاکٹروں کا بازو بن کر ان کے ایشو کو اجاگر کیا ہو۔اس حوالے سے خواجہ عمران کی جتنی تعریف کی جائے کم ہو گی۔دوسری طرف اگر ہم نوٹ کریں۔جونئیر ڈاکٹر بیچارا معاشرے کا سب سے مظلوم طبقہ ہے۔ہر دوسرے دن مختلف ٹیموں سے سرزنش کروانا ، مریضوں کے سامنے کھلے عام عزت و توقیر کا جنازہ نکلوانا اور سب سے بڑھ کر ہیلتھ سیکریٹریٹ میں اپنے جائز کام کے لئے ذلیل و خوار ہونا ، وہ قربانی ہے ، جسے بیان کرنا مشکل ہے اور رہی سہی کسر ، ریٹائرڈ ڈاکٹروں کی دوبارہ تعیناتیوں نے پوری کر دی ہے۔مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ والدین کیونکر سوا ، سوا کروڑ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں لگا کر اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے پر مصر ہیں۔ابھی دو دن پہلے میرے دوست نے بتایا ، کئی سال پہلے ملنے والا بچہ جس کا داخلہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں ہو گیا تھا ، اس نے ڈاکٹر بننے کے بجائے آئی ٹی جوائن کر لی اور آج وہ کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔میں کسی اور بارے کیا لکھوں ، میرے بہنوئی نے کہا۔کاش میں اپنے بیٹے کو پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ڈاکٹر نہ بناتا ، اسے کسی بھی سرکاری نوکری پر لگوا لیتا تو آج میں بھی سکھی ہوتا ، میری آنکھوں کے سامنے ہوتا ، وہ نوکری کے لئے در بدر کی ٹھوکریں نہ کھاتا۔ان دگرگوں حالات کا نوحہ پڑھنے کے بعدمیری والدین سے مودبانہ گزارش تھی۔اپنے بچوں کے مستقبل بارے دیکھ بھال کر فیصلہ کریں۔اب وہ دور نہیں رہا ہے جو پہلے بھی کبھی نہ تھا کہ ڈاکٹر بننے کے بعد درختوں سے پیسے لگے ہوں گے ، ہر طرف پیسے کی ریل پیل ہو گی ، پیسے کی ندیاں بہہ رہی ہوں گی۔
خدارا!تخیلاتی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں قدم رکھیں۔پہلے ہی اپنے ملک میں ڈیپریشن زدہ بچوں اور بڑوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔اگر یہی ڈگر قائم رہی پھر تو ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔