لاوارث والدین

 آپا منزہ جاوید 
یہ کیسا المیہ ہے کہ جن ہاتھوں نے ہمیں چلنا سکھایا، آج وہی ہاتھ سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ جن آنکھوں نے ہماری نیند کے لیے جاگنا قبول کیا، آج وہی آنکھیں دروازے کی آہٹ پر ٹکی رہتی ہیں۔ یہ وہ والدین ہیں جو زندہ ہیں، سانس لے رہے ہیں، دعا دیتے ہیں—مگر اس کے باوجود لاوارث ہیں۔
لاوارث ہونے کے لیے مر جانا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی اولاد کی بے توجہی، مصروفیت کے بہانے اور ترجیحات کی فہرست میں آخری نمبر انسان کو جیتے جی لاوارث بنا دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یتیم بچوں کے لیے تو آواز اٹھتی ہے، مگر ان والدین کا کوئی ذکر نہیں جو اولاد کے ہوتے ہوئے تنہا ہیں۔ جن کے پاس بیٹے ہیں مگر سہارا نہیں، بیٹیاں ہیں مگر وقت نہیں۔
آج اگر ہم ذرا غور کریں تو سوشل میڈیا ہماری آنکھوں کے سامنے ایک تلخ حقیقت رکھ رہا ہے۔ والدین کس طرح اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں مر مر کر جی رہے ہیں، اس کے مناظر روز سامنے آتے ہیں۔ کہیں والدین کو گھر سے نکال دیا گیا، تو کہیں انہیں گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ نہ ان کے کھانے کی فکر، نہ علاج کی پرواہ، نہ تیمارداری کا احساس۔ جن والدین نے اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اولاد کے نام کر دی، انہیں اپنے ہی گھر میں ایک ملازم سے زیادہ حقوق نصیب نہیں ہوتے۔
کچھ والدین کو اولڈ ہاؤسز یا بے سہارا افراد کی مدد کرنے والے اداروں میں اس وعدے کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ ‘‘چند دن بعد آ کر واپس لے جائیں گے’’، مگر وہ چند دن کبھی نہیں آتے۔ وہ والدین، جو ساری عمر اپنے گھر کی بنیاد رہے، اسی گھر کی دہلیز کو ترستے ہوئے اپنی باقی زندگی گزار دیتے ہیں۔
اگر کہیں اولاد ماں باپ کا علاج معالجہ کروا بھی رہی ہو تو وہ بھی احسان جتا کر۔ بار بار یہ سنایا جاتا ہے کہ کتنا خرچ آ گیا، دواؤں پر کتنا لگ گیا، ڈاکٹر کی فیس کتنی تھی۔ ایسے میں وہ والدین اپنی ہی تکلیف بیان کرتے ہوئے شرمانے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔
اولاد کے سخت رویے انہیں خاموش رہنا سکھا دیتے ہیں۔ وہ درد چھپا لیتے ہیں، آنسو پی جاتے ہیں اور لوگوں کے سامنے مسکرا دیتے ہیں—صرف اس لیے کہ کہیں ان کی عزت مجروح نہ ہو۔ اپنی عزت بچاتے بچاتے وہ خاموشی کے ساتھ اس جہاںِ فانی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
ہم نے والدین کو بھی ایک آپشن بنا دیا ہے۔ جب وقت ملا تو حال پوچھ لیا، جب دل چاہا تو مل آئے، اور جب زندگی کی دوڑ تیز ہو گئی تو انہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ والدین کے سامنے ‘‘اْف’’ تک کہنا منع ہے، مگر ہم نے خاموشی، بے رخی اور دوری کو معمول بنا لیا ہے۔

یہ کیسی ترقی ہے جہاں گھر بڑے ہو گئے مگر دل چھوٹے ہو گئے؟ جہاں اسٹیٹس اپڈیٹ ہو جاتے ہیں مگر والدین کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ لاوارث والدین سوال نہیں کرتے، شکایت نہیں کرتے، بس خاموش ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھیے، والدین اپنی زندگی میں ہی اکثر اولاد کے لیے ہر تکلیف خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات پس پشت ڈال دیتے ہیں، اپنی نیندیں قربان کر دیتے ہیں، اپنے خواب ہماری حقیقت بنانے میں لگاتے ہیں۔ اور جب یہ سب ختم ہوتا ہے، تب بھی وہ مسکرا کر خاموش رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرتی رویے انہیں مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی تکلیف چھپائیں، اپنی کمزوری چھپائیں، اور دنیا کے سامنے ایک مضبوط، خوش مزاج چہرہ دکھائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عزت بچاتے ہوئے خاموشی کے ساتھ فانی دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اکثر یہ دنیا انہیں بھلا دیتی ہے، مگر خدا ہر قربانی کو دیکھتا ہے، ہر صبر کو جانتا ہے۔
اگر والدین تنہا ہو جائیں تو اس کا اثر نہ صرف ان کی زندگی بلکہ ہمارے دل پر بھی پڑتا ہے۔ والدین کی عزت اور وقت دینے کا مطلب صرف اخلاقی فریضہ نہیں، بلکہ ایک معاشرتی اور روحانی ضرورت ہے۔ یہ وہ موقع ہے جو دوبارہ واپس نہیں آتا۔
چند منٹ، ایک فون کال، تھوڑی توجہ، ایک محبت بھرا لمس—یہ سب چھوٹی چیزیں والدین کی پوری دنیا بدل سکتی ہیں۔ اگر ہم انہیں یہ سب نہیں دیتے تو ہم اپنے مستقبل کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کیونکہ جیسے ہم نے والدین کی پرواہ نہ کی، وہ ہماری اولاد بھی ہماری پرواہ نہیں کرے گی۔ یہ قانونِ زندگی ہے۔
خدا کے لیے اپنے والدین کی عزت کیجیے، انہیں وقت دیجیے، محبت دیجیے، توجہ دیجیے۔ یاد رکھیے، آپ بھی ایک دن اسی عمر، اسی کمزوری اور اسی محتاجی سے گزریں گے۔ ایسے اعمال مت کیجیے جن کے باعث نہ صرف آخرت خراب ہو بلکہ دنیا میں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے۔
آخر میں، یہ سوچ کر دیکھیں کہ جو والدین ہمیں دنیا میں لائے، ہماری پرورش کی، ہماری خوشیوں اور تکالیف کا حصہ بنے، انہیں ہم کب یاد کریں گے؟ کب ان کے لیے وقت نکالیں گے؟ یہ لمحے قیمتی ہیں، اور جب یہ لمحے ختم ہو جائیں تو صرف یادیں اور پچھتاوے باقی رہ جائیں گے۔
یاد رکھیے، والدین کے لیے ہمارا ہر عمل—چھوٹا یا بڑا—ان کی زندگی میں سکون اور عزت کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ساتھ اپنی محبت، احترام اور وقت ضائع نہ کریں۔ کیونکہ والدین کی عزت کرنا صرف ایک ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی فرض ہے، جو ہمیں ایک بہتر انسان بناتا ہے اور معاشرے کو مضبوط کرتا ہے۔