بیشتر بستیوں کو بجلی کی سہولیات فراہم ، پانی آنے پر سب سے زیادہ نقصان اِنہیں بستیوں میں ہوتا ، ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب
لاہور(خصوصی رپورٹ)ملک کے پانچوں بڑے دریا ئوں کے اندر پانچ سے چھ ہزار بستیاں بسائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اِن میں سے بیشتر بستیوں کو بجلی جیسی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔پی ڈی ایم اے پنجاب کی طرف سے کیے جانے والے ایک سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے پانچوں بڑے دریا ئو ں میں پانچ سے چھ ہزار غیرقانونی بستیاں بسائی جاچکی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ دریا ئوں کے اندر قائم بستیاں اور دیگر تجاوزات نقصانات کا بڑا سبب بن گئیں۔ اِس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دراصل سال کے بیشتر حصے میں دریا ئوں کا بڑا حصہ پانی سے خالی رہتا ہے جس کے باعث یہاں بستیاں قائم کرلی جاتی ہیں اور جب پانی آتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان اِنہیں بستیوں میں آتا ہے۔ اْن کا کہنا تھا یہی وجہ ہے کہ اب دریا ئوں کے پانی میں معمولی اضافہ بھی نقصانات کا باعث بننا شروع ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بارشوں کے مزید مضبوط سسٹمز بھی متوقع ہیں جن کے نتیجیمیں دریا ئوں کے کیچ منٹ ایریاز میں بھی اچھی بارشیں متوقع ہیں۔ اِن بارشوں کے نتیجے میں دریا ئوں میں پانی کے بہا ئو میں مزید اضافہ متوقع ہے جس سے جانی اور مالی نقصانات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اِس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل صاحب زاد خان نیبتایا کہ اب تک ملک بھر میں مون سون کے دوران معمول سے 13 فیصد زیادہ بارشیں برس چکی ہیں اور ابھی متعدد سسٹمزمتوقع ہیں۔