عتیق چوہدری
پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ طویل المدت اصلاحات کے بجائے "ڈنگ ٹپاؤ" پالیسیوں کو ترجیح دی ہے، جس کا نتیجہ آج ایک دیو ہیکل غیر دستاویزی معیشت اور خالی خزانے کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جب تک ریاست مشکل فیصلے کرنے کے بجائے محض وقت گزاری اور عارضی پیوند کاری سے کام لیتی رہے گی، معاشی استحکام ایک سراب ہی رہے گا۔ آج سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ آئی ایم ایف کے مطالبات کیسے پورے کیے جائیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بار بھی دستاویزی معیشت کی طرف قدم بڑھائیں گے یا روایتی طور پر پہلے سے پسے ہوئے طبقے پر مزید بوجھ ڈال کر اپنی جان چھڑائیں گے؟ غیر دستاویزی معیشت اب صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ ملکی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔آئی ایم ایف نے اگلے مالی سال کے بجٹ کے لیے جو مطالبات سامنے رکھے ہیں، وہ حکومت کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف میں 1600 ارب روپے کے بھاری اضافے کی تجویز دیتے ہوئے مجموعی ہدف 15 ہزار 600 ارب روپے سے زائد رکھنے پر زور دیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ رواں مالی سال میں ہدف کم کرنے کے باوجود ایف بی آر کو 610 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی تا مارچ (2025-26) کے دوران 9,307 ارب روپے ٹیکس جمع کیے، جو نظرثانی شدہ ہدف 9,917 ارب روپے کے مقابلے میں 610 ارب روپے کی کمی ظاہر کرتا ہے یہ شارٹ فال اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب تک معیشت کا ایک بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہے گا، محصولات کے بڑے بڑے اہداف محض کاغذوں کی زینت ہی بنے رہیں گے۔ حکومت کا سپر ٹیکس اور سرچارج پر انحصار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نئے ٹیکس دہندگان کو تلاش کرنے کے بجائے پرانے دہندگان کا خون نچوڑنے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔آئی ایم ایف کے حالیہ مطالبات میں پیٹرولیم مصنوعات اور سولر صارفین پر 18 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ ایک ایسا کڑوا گھونٹ ہے جو حکومت کے لیے نگلنا مشکل ہوگا۔ ایک طرف تو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے سولر انرجی کی تشہیر کی گئی، اور اب اسی پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ اور چھوٹے کاروباروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانا بظاہر دستاویزی معیشت کی طرف پیش قدمی لگتی ہے، لیکن بغیر کسی جامع ڈیجیٹل فریم ورک اور عوامی اعتماد کے، یہ اقدامات صرف مہنگائی اور کاروباری طبقے میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔پاکستان کی معیشت کا تقریبًا 40 فیصد حصہ غیر رسمی ہے، جس کا سالانہ حجم 457 ارب ڈالر سے زائد بتایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنگین صورتحال ہے جہاں دستاویزی معیشت میں شامل ادارے 24 فیصد تک ٹیکس دے رہے ہیں جبکہ غیر دستاویزی شعبہ کسی بھی مسابقت سے آزاد ہو کر منافع سمیٹ رہا ہے۔ ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کی بارہا نشاندہی کے باوجود، نقد لین دین (Cash Transactions) کی حوصلہ شکنی کے لیے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جب تک نقد لین دین پر پابندی اور بینکنگ چینلز کو لازمی نہیں قرار دیا جائے گا، معیشت کا یہ سیاہ حصہ ملکی جڑوں کو کھوکھلا کرتا رہے گا۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ دستاویزی معیشت کی توسیع کے بغیر آئی ایم ایف اور دوست ممالک پر انحصار ختم کرنا ناممکن ہے۔نئے بجٹ کے لیے حکومت نے 5.1 فیصد جی ایس ٹی گروتھ اور 6.5 فیصد مہنگائی کا جوممکنہ ہدف رکھا ہے، وہ موجودہ حالات میں بہت زیادہ پْر امید نظر آتا ہے۔ خاص طور پر جب خطے کے حالات ، مشرق وسطی میں کشیدگی کے اثرات ، آئل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونا ، پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں غیر مستحکم ہوں۔ حکومت کی جانب سے "گرین بجٹنگ" اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے الگ فنڈز کا قیام ایک مثبت قدم تو ہے، لیکن کیا یہ محض عالمی اداروں کو خوش کرنے کے لیے ہے یا واقعی زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے؟ کلائمیٹ لیویز اور آلودگی پھیلانے والے شعبوں پر ٹیکس کا نفاذ تب ہی کارگر ہوگا جب شفافیت کا نظام موجود ہو اور یہ رقوم واقعی اسی مقصد کے لیے استعمال ہوں۔مستقبل کا معاشی استحکام اب کسی معجزے کا نہیں بلکہ جرات مندانہ فیصلوں کا متقاضی ہے۔ ہماری صنعتیں اس وقت تک عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر سکتیں جب تک پیداواری لاگت کو لگام نہ دی جائے اور شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ میں لا کر سرمائے کی فراہمی آسان نہ بنائی جائے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس بار اپنے "مراعات یافتہ" لاڈلوں پر ہاتھ ڈالے گی؟ اگر ماضی کی طرح سیاسی مصلحتوں کے تحت بڑے جاگیرداروں اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ سے باہر رکھا گیا، تو پہلے سے پسا ہوا تنخواہ دار طبقہ اور عام آدمی اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ڈنگ ٹپاؤ اور عارضی پیوند کاری کی پالیسی کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے اور ایک ایسی منصفانہ ٹیکس پالیسی لائی جائے جہاں ہر شعبہ اپنی استطاعت کے مطابق قومی بوجھ میں حصہ ڈالے۔قرضوں کے دلدل میں دھنستی ہوئی ہماری معیشت کے لیے اب محض زندہ رہنا کافی نہیں، بلکہ قرضوں سے نجات کی ٹھوس منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ہوش رْبا اعداد و شمار ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں، جن کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے دو سالوں (مارچ 2024 تا فروری 2026) کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 15 ہزار 72 ارب روپے کا تاریخی اضافہ ہوا۔ یہ اوسطاً ہر روز تقریباً 21 ارب روپے کا قرض بنتا ہے، جو ہماری معاشی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ فروری 2026 تک مجموعی وفاقی قرضہ 79 ہزار 882 ارب روپے کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے، جو نگران حکومت کے خاتمے پر 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔ قرضوں کا یہ کوہِ ہمالیہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ عارضی قرضوں سے عارضی بجٹ بنانے کا وقت گزر چکا۔اب ہمیں شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اصلاحات کا ایک ایسا خودکار میکنزم بنانا ہوگا جو محض اعداد و شمار کی جادوگری تک محدود نہ ہو۔ بڑے معاشی انڈیکیٹرز میں بہتری کا ڈھنڈورا تب تک بے معنی ہے جب تک اس کے ثمرات عام آدمی کی دہلیز تک نہ پہنچیں، اس کا معیارِ زندگی بلند نہ ہو اور اس کی قوتِ خرید میں اضافہ نہ ہو۔ حقیقی خوشحالی تب آئے گی جب مہنگائی کا جن قابو میں ہو، نوجوانوں کے لیے روزگار کے حقیقی مواقع ہوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اب محض ایک انتخاب یا مشورہ نہیں بلکہ بقا کی آخری شرط ہے؛ اگر اس بار بھی ہم نے غیر دستاویزی معیشت کے ناسور کو ختم نہ کیا، تو اگلا بجٹ بھی خسارے، قرضوں اور مایوسی کی ایک نئی داستان کے سوا کچھ نہ ہوگا