عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق پیش رفت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 101.9 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ اسی طرح اماراتی مربن بھی 110 ڈالر فی بیرل سے زائد کی قیمت پر فروخت ہونے لگا۔تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بنیادی عوامل میں کسی بڑی تبدیلی کے بجائے زیادہ تر قلیل مدتی خریداری کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی صورتحال واضح ہونے تک تیل کی قیمتیں ایک محدود دائرے میں رہ سکتی ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات سے متعلق آنے والی خبروں پر مارکیٹ کا ردعمل برقرار رہنے کا امکان ہے۔دوسری جانب حالیہ حملوں کے بعد سعودی آرامکو نے آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔
ٹینکر ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی آرامکو نے اتوار کے روز خلیج کے اندر 7 سپر ٹینکروں میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ بیرل خام تیل لادا۔ادھر لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے چیئرمین مسعود سلیمان نے بتایا ہے کہ ملک کے شارارہ آئل فیلڈ میں تیل کی پیداوار میں جزوی کمی واقع ہوئی ہے، تاہم انہوں نے پیداوار میں کمی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی سپلائی اور امریکا، ایران سفارتی رابطوں سے متعلق پیش رفت کو خاص طور پر مانیٹر کر رہے ہیں۔