حکومت پنجاب کا پتنگ بازی کیلئے قانون میں ترامیم کا نیا ڈرافٹ تیار

پتنگ بنانے والوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی، رجسٹریشن فیس 25ہزار روپے مقرر کی گئی ہے 
بسنت کیلئے تجویز کردہ مقامات میں والڈ سٹی، ریس کورس، ماڈل ٹائون اور جلو پارک شامل ہیں
لاہور (آن لائن)  لاہور میں بسنت کے تہوار کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے، حکومت نے پتنگ بازی کے لیے قانون میں ترامیم کا نیا ڈرافٹ تیار کر لیا جو پنجاب پروبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2001ء کے تحت ترمیم شدہ ہے۔ ترمیم شدہ ڈرافٹ کے مطابق پتنگ بنانے والوں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ مینوفیکچررز کے لیے رجسٹریشن فیس 25ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ تجدید کے لیے 2ہزار 500روپے فیس رکھی گئی ہے۔ پتنگ فروشوں کے لیے رجسٹریشن فیس 15ہزار اور تجدید کی فیس 1ہزار 500روپے مقرر کی گئی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشنز کے لیے رجسٹریشن فیس 50ہزار اور تجدید فیس 5 ہزار مقرر کی گئی ہے۔محفوظ پتنگ بازی کے لیے مخصوص شرائط و ضوابط پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بڑی پتنگ، دھاتی یا شیشے والی ڈور کے استعمال پر سخت پابندی برقرار رہے گی۔ خاص طور پر دھاتی ڈور کے استعمال پر سزا کے طور پر جیل کی سزا دی جائے گی۔بسنت کی تقریبات اب صرف اندرونِ لاہور تک محدود نہیں رہیں گی۔ بسنت کے لیے جن مقامات کے نام تجویز کیے گئے ہیں ان میں والڈ سٹی، ریس کورس، ماڈل ٹائون اور جلو پارک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی سی ہوٹل، آواری ہوٹل، اور فلیٹیز ہوٹل کی چھتوں پر بھی پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی۔