بن گویر کی فلوٹیلا ویڈیو نے اسرائیل کی ملٹی ملین ’ہسبارا‘ مہم کو نقصان پہنچایا

بن گویر کی فلوٹیلا ویڈیو نے اسرائیل کی ملٹی ملین ’ہسبارا‘ مہم کو نقصان پہنچایا

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے نائب وزیر اتمار بن گویر کی ایک ویڈیو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سبب بن گئی ہے، جس میں وہ غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے فلوٹیلا کے کارکنوں کی تضحیک کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ ویڈیو اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل پر عالمی سطح سے دباؤ اور تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلوٹیلا کے کارکن، جن کے ہاتھ بندھے اور آنکھیں بند ہیں، اشدود بندرگاہ پر زمین پر بیٹھے ہیں، جبکہ بن گویر ان کے قریب موجود ہیں۔ اس منظر کو عالمی سطح پر تشویش اور غم و غصہ کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے قبرص کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کے جہازوں کو روک کر 430 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا تھا، جن میں سے کم از کم 87 افراد نے بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی۔اس واقعے کے بعد کئی ممالک، جن میں اٹلی، فرانس، اسپین، نیدرلینڈز اور کینیڈا شامل ہیں، نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، یہ ویڈیو اسرائیل کی عالمی سطح پر جاری ہسبارا (عوامی سفارت کاری) مہم کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کا مقصد دنیا میں اسرائیل کا مثبت تاثر قائم کرنا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو نے اسرائیل کی اصل پالیسی اور طاقت کے استعمال کی تصویر واضح کر دی ہے۔ فلسطینی امور کے ماہر فتحی نمر نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اصل پریشانی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نہیں بلکہ اس کی عالمی تشہیر سے ہے۔ دوسری طرف، اسرائیلی امور کے ماہر متانس شہادہ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو دنیا کو اسرائیل کی اصل پالیسی اور طاقت کے استعمال کا حقیقی چہرہ دکھاتی ہے۔امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی بن گویر پر تنقید کی ہے، لیکن ناقدین نے امریکی مؤقف کو دہرا معیار قرار دیا ہے کیونکہ امریکا نے ایک روز قبل ہی فلوٹیلا کے منتظمین پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ فلسطینی رہنما مصطفیٰ برغوثی کا کہنا ہے کہ کارکنوں کے ساتھ ہونے والا سلوک فلسطینی قیدیوں کی روزمرہ زندگی کی ایک جھلک ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جیلوں میں تقریباً 100 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق، فلوٹیلا مہمات نے اسرائیلی ناکہ بندی اور طاقت کے استعمال کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا ہے، اور اسرائیلی پروپیگنڈا اب زمینی حقائق کو چھپانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال اسرائیلی حکام کے لیے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور تنقید کا ایک اہم سبب بن رہی ہے۔