اسرائیلی وزیر بن گویر کی فلسطینی قیدیوں کو قتل کی دھمکی، ویڈیو وائرل

اسرائیلی وزیر بن گویر کی فلسطینی قیدیوں کو قتل کی دھمکی، ویڈیو وائرل

اسرائیل کے دائیں بازو کے سخت گیر وزیر ایتامار بن گویر کا ایک ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اسرائیلی ریاست کے مکروہ چہرے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

 ویڈیو میں بن گویر فلسطینی قیدیوں کے سامنے کھڑے ہیں جن کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے ہیں اور انہیں اوندھے فرش پر لٹایا گیا ہے۔ انہوں نے ان قیدیوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ لوگ ہمارے بچوں اور خواتین کو مارنے آئے تھے۔ بن گویر نے اپنے نفرت انگیز انداز میں مزید کہا کہ اب صرف ایک چیز باقی ہے اور وہ ہے ان کے لیے فوری سزائے موت۔وزیر بن گویر نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کی سزائے موت کی تجویز پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئی، تو وہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی حمایت ختم کر دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں حماس کے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کے بعد تنظیم نے یرغمال بنائے اسرائیلیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ بن گویر نے فلسطینی قیدیوں پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے جیلوں میں خوف کی فضا پیدا کرنے کو اپنی کامیابی قرار دیا، اور کہا کہ اب جیلیں خوفناک جگہیں بن چکی ہیں جہاں قیدیوں کے چہروں سے مسکراہٹیں غائب ہو گئی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیاں دہشت گرد حملوں میں کمی کا سبب بنی ہیں اور کہا کہ جو بھی ان کے جیل سے گزرا ہے، دوبارہ وہاں جانا نہیں چاہے گا۔ حالیہ ہفتوں میں انہوں نے زور دیا کہ جب تک دہشت گرد زندہ رہیں گے، شدت پسند اسرائیلیوں کو اغوا کرنے کی ترغیب پاتے رہیں گے، اور فلسطینیوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کسی یہودی کو قتل کیا، تو انہیں زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔بن گویر غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے خلاف بھی تھے، اور ان کی جماعت ’’اوتزما یہودیت‘‘ نے ماضی میں قیدیوں کی رہائی کے معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ دوسری جانب، اسرائیلی وزیر انصاف یاریو لیوین نے ایک خصوصی عدالت قائم کرنے کی قانون سازی کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ملوث غزہ کے جنگجوؤں پر مقدمہ چلانا اور مجرموں کو سزائے موت دینا ہے۔