کراچی میں میری ویدر ٹاور کے قریب پیپلز بس سروس کے ڈرائیوروں نے مبینہ پولیس تشدد کے خلاف بسیں کھڑی کر کے شدید احتجاج کیا، جس کے باعث شہر کے اہم علاقوں میں ٹریفک نظام مکمل طور پر متاثر ہو گیا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج کے دوران ڈرائیوروں نے جناح برج کو بلاک کر دیا، جس کے نتیجے میں ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، جی الانہ روڈ اور ایم ٹی خان روڈ پر ٹریفک جام ہو گیا۔ صبح کے اوقات میں دفاتر جانے والے شہری گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک بس کی موٹر سائیکل سے ٹکر ہوئی، جس پر موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار، جو اپنی فیملی کے ساتھ تھا، اور بس ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ بعد ازاں اہلکار نے مزید پولیس اہلکاروں کو طلب کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس واقعے کے بعد بس ڈرائیوروں نے احتجاج شروع کر دیا اور اہم شاہراہیں بند کر دیں۔ پیپلز بس سروس ک کے ڈرائیوروں کے احتجاج کے باعث شہر بھر میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا۔
ایس ایچ او کھارادر پون کمار کے مطابق پولیس مظاہرین سے مذاکرات کر رہی ہے اور سڑکیں کھلوانے کی کوشش جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صورتحال کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا جا رہا ہے، جن میں چندریگر چوک سے ممتاز حسن روڈ، جناح برج سے ایم ٹی خان روڈ اور کھارادر تھانے سے یعقوبیہ مسجد کی طرف راستے شامل ہیں۔حکام کے مطابق صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم احتجاج کے باعث شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔